ٹرمپ کا ایران کے تیل اور خارگ جزیرے پر قبضے کا عندیہ

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے مرکزی برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔

برطانوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سچ پوچھیں تو میری ترجیح یہ ہو گی کہ ایران کا تیل لے لیا جائے، لیکن امریکا میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ وہ بیوقوف ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے ہم خارگ جزیرہ لے لیں، ممکن ہے نہ لیں، ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ ہمیں کچھ عرصہ وہاں رہنا پڑے گا۔

امریکی صدر نے ایران میں ممکنہ فوجی کارروائی کا موازنہ رواں سال کے آغاز میں وینزویلا میں کی گئی کارروائیوں سے کیا، جہاں امریکا نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد تیل کی صنعت پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکا و اسارئیل کے ایران پر حملوں کے سبب یہ تنازع پہلے ہی خلیجی ممالک تک پھیل چکا ہے، جس کے سبب توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے

اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ایران کا ہیوی واٹر پلانٹ غیر فعال، عالمی توانائی ایجنسی کی تصدیق

ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے شہر خُنداب میں واقع ہیوی واٹر کمپلیکس کو 27 مارچ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ خُنداب میں واقع ہیوی واٹر کمپلیکس اب قابلِ استعمال نہیں رہا۔

ادارے نے وضاحت کی ہے کہ اس تنصیب میں کسی قسم کا اعلان شدہ جوہری مواد موجود نہیں تھا، جس کے باعث تابکاری کے اخراج کا خطرہ نہیں ہے۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی تھی کہ انہوں نے جمعے کو وسطی ایران میں ایک ہیوی واٹر ری ایکٹر اور یورینیئم پراسیسنگ پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے وسطی ایران کے شہر اراک میں واقع ہیوی واٹر پلانٹ کو نشانہ بنایا اور اس مقام کو جوہری ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم کی تیاری کا اہم مرکز قرار دیا گیا۔یرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں خُنداب کے ہیوی واٹر کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کے مطابق اس حملے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا تابکار اخراج ہوا۔

خُنداب کے نواحی علاقے میں واقع ری ایکٹر پر کام 2000ء کی دہائی میں شروع ہوا تھا، لیکن 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے تحت اسے روک دیا گیا تھا، جو اب ختم ہو چکا ہے۔