چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے چین، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے اور ان کی حمایت کرتا ہے۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس سلسلے میں چین، جنگ بندی اور امن کے لیے متحرک پاکستان اور ديگر ملکوں کے ساتھ رابطے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کل چین کا اہم دورہ کریں گے۔
اسحاق ڈار کا یہ دورہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان ہر طرح کے حالات میں اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری قائم ہے جس میں علاقائی اور عالمی امور پر قریبی رابطہ اور باقاعدہ مشاورت شامل ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسی تناظر میں یہ دورہ دونوں ممالک کو علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گا۔
س حوالے سے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیے گئے ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس میں مذہبی مقامات کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں رمضان میں مسجدِ اقصیٰ کے دروازے بند رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔علامیے کے مطابق اردن کے محکمۂ اوقاف کو مسجدِ اقصیٰ کے امور کا واحد مجاز ادارہ قرار دینے کا اعادہ کیا گیا ہے۔
ساتھ ہی عالمی برادری سے اسرائیلی اقدامات روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قیادت میں کی جانے والی سفارتی کوششوں کا حصہ نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات ایران تک پہنچائے گئے، ایران کو بھیجی گئی امریکی تجاویز زیادہ تر غیر حقیقت پسندانہ، غیر معقول اور حد سے متجاوز تھیں، تاہم ایران نے علاقائی ممالک کی امن کی کوشش کو خوش آئند قرار دیا۔
اسماعیل بقائی نے صورتِ حال کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایرانی شہریوں کے حقوق کا خیال رکھے، معاملات میں دور اندیشی کا مظاہرہ کیا جائے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت سے متعلق نیا قانون منظور کیے جانے پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی قیادت نے اس قانون کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور امتیازی اقدام قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق منظور شدہ قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں ایسے فلسطینی افراد جنہیں اسرائیلی شہریوں کے قتل کا مجرم قرار دیا جائے گا، انہیں پھانسی دینا بنیادی سزا ہو گی۔
اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے قانون کی منظوری کو ’تاریخی قدم‘ قرار دیتے ہوئے یورپی یونین کے دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے سے چند گھنٹے قبل جنگ کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا۔
امریکی صدر نے ایران میں 1 ہزار کلو گرام وزنی بنکر بسٹر بموں سے ہونے والے ایک بڑے دھماکے کی ویڈیو شیئر کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دھماکے آج (منگل کی) علی الصبح شہر اصفہان میں ہوئے، ویڈیو میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جن کے بعد آگ کے شعلے رات کے تاریک آسمان کو نارنجی روشنی سے روشن کر دیتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے مرکزی برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔
برطانوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سچ پوچھیں تو میری ترجیح یہ ہو گی کہ ایران کا تیل لے لیا جائے، لیکن امریکا میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ وہ بیوقوف ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے ہم خارگ جزیرہ لے لیں، ممکن ہے نہ لیں، ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ ہمیں کچھ عرصہ وہاں رہنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے ایران میں ممکنہ فوجی کارروائی کا موازنہ رواں سال کے آغاز میں وینزویلا میں کی گئی کارروائیوں سے کیا، جہاں امریکا نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد تیل کی صنعت پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکا و اسارئیل کے ایران پر حملوں کے سبب یہ تنازع پہلے ہی خلیجی ممالک تک پھیل چکا ہے، جس کے سبب توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے شہر خُنداب میں واقع ہیوی واٹر کمپلیکس کو 27 مارچ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ خُنداب میں واقع ہیوی واٹر کمپلیکس اب قابلِ استعمال نہیں رہا۔
ادارے نے وضاحت کی ہے کہ اس تنصیب میں کسی قسم کا اعلان شدہ جوہری مواد موجود نہیں تھا، جس کے باعث تابکاری کے اخراج کا خطرہ نہیں ہے۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی تھی کہ انہوں نے جمعے کو وسطی ایران میں ایک ہیوی واٹر ری ایکٹر اور یورینیئم پراسیسنگ پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے وسطی ایران کے شہر اراک میں واقع ہیوی واٹر پلانٹ کو نشانہ بنایا اور اس مقام کو جوہری ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم کی تیاری کا اہم مرکز قرار دیا گیا۔یرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں خُنداب کے ہیوی واٹر کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کے مطابق اس حملے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا تابکار اخراج ہوا۔
خُنداب کے نواحی علاقے میں واقع ری ایکٹر پر کام 2000ء کی دہائی میں شروع ہوا تھا، لیکن 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے تحت اسے روک دیا گیا تھا، جو اب ختم ہو چکا ہے۔