21

پندرہ برس کی محنت اور تقریباً تیرا سی بلین امریکی ڈالرز کی لاگت سے تیار کی گئی یہ تجربہ گاہ ناسا مئی میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب بھیجے گا

رواں سال مئی کے مہینے میں کوانٹم طبیعیات کے ماہرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناسانے سرد ایٹم کی تجربہ گاہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب لانچ کی جا ئے گی ۔ماہرین کے مطابق یہ پوری کائنات میں سب سے سرد تجربہ گاہ ہوگی ،جس میں تحقیق کرنے والے سائنس داں کوانٹم مظاہر (quantum phenomina) کی بابت وہ تفتیش کریں گے جسے زمین پر کرنا ناممکن ہے ۔

اس کو تیار کرنے میں قریباً83 بلین امریکی ڈالر کی لاگت آئے گی ۔اس منصوبے میں کوانٹم میکانکس کا میکرو اسکوپ پیمانے پر مادّے کی اس حالت کا جائزہ لیا جائے گا ۔جسے بوس آئن اسٹائن کنڈنسیٹ (Bose -Einstein Condensate) کہا جاتا ہے ۔جولاکھوں ایٹموں کو زیرو تک ٹھنڈا کرنے پر بادل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔بعدازاں یہ لہر کی طرح synchroniseکر کے ایک کوانٹم کی طر ح عمل پذیر ہوتے ہیں ۔ سائنس دانوں کواُمید ہے کہ خلا ء میں یہ تجربات کرنا عظیم کارنامہ ہو گا ۔اس مشن کے مینجر کمال اودحریری کے مطابق زمین پر عموماً گریو یٹیشنل لہریں ان کنڈ نسینٹ کو چند سیکنڈز میں بکھیر دیتی ہیں ۔بی ای سی سے قریب ترین خلائی جیسی حالت میں ایک تحقیقی راکٹ سے گرا کر9 سیکنڈ کے لیے وہ حالت پید ا کی گئی تھی لیکن اسپیس اسٹیشن میں تیرتے ہوئے وقت کم سے کم 10 سیکنڈ تک ہو جائے گا ۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ وقت ایک ڈگری کے20 کھربویں حصے کے ریکارڈ ٹمپریچر تک ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی ہو گا ۔جو کائنات میں کسی بھی جگہ پر معلوم سرد ترین ٹیمپریچر ہوگا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد ترین اور دیر تک رہنے والاکنڈنسیٹ بنیادی طبیعیات کے جائزہ کی حد ودکو آگے بڑھانے میں معاون ہوگا۔اس کام کے لیے سائنس داں 15 سال سے انتظار کررہے ہیں۔خلائی اسٹیشن میں انجینئرز کو سمانے والے اٹامک طبیعیاتی آلات کو ایک چھوٹے سے بکس میں رکھنا ہوگا ۔یہ آلات روبیڈیم اور پوٹاشیم کے ایٹموں کو لیزر سے تمام اطراف میں پھینک کر ان کو اتنا آہستہ کردیں گے کہ وہ تقریباً ایک جگہ رکے ہوئے لگیں گے ۔اس کے بعد میگنیٹک فیلڈ کے ذریعے سے ان کے بادل کو جال میں جمع کیا جائے گا ،پھر ان کا کنڈ نسینٹ بنانے کے لئے دوسری ٹھنڈاکرنے والی تراکیب استعمال کر کے اس کے بادل کو زیرو کے مزید قریب لایا جا ئے گا۔ اس طرح سب سے زیادہ توانائی کے ایٹموں کو ریڈیائی لہر کے چاقو سے جال کو بڑا کرکے بادل کو مزید پھیلنے کا موقع دیاجائےگا۔انجینئروں نے زمین کے بدلتے ہوئے مقناطیسی میدان اور دوسرے بہت سے آلات کے اثرات سے نازک کنڈنسینٹ کی حفاظت کے لیے اس کی ڈھال ڈیزائن کرنی ہے۔گر چہ خلاء باز اس کے آلات کو کھول کر مشین کو فٹ کر دیں گے لیکن مشین صرف اس وقت کام کرے گی جب اس کے اردگرد کسی بھی قسم کی کوئی حرکت نہ ہو رہی ہو ،تاکہ کسی بھی حرکت کی وجہ سے تجربات میں خلل کو کم سے کم کیا جاسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں