69

نیب اپیل مسترد: شریف خاندان کیلئے ریلیف عارضی؟

وطن عزیز کی سیاست میں مسلسل پانچ ماہ سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری محاذ آرائی نے سیاسی فضا اور ماحول کو کشیدگی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ حکومتی وزراء صرف دعووں اور الزامات کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنی کارکردگی بتا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اپوزیشن احتساب کی آڑ میں انتقام لینے کے حوالہ سے حکومت پر تابڑ توڑ حملے کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کا تصور تک دکھائی نہیں دے رہا اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ غیر ملکی دوروں اور سفارتکاری کے محاذ پر تو وزیر اعظم اور اُن کے ساتھی واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں اقدامات سے مثبت علامتیں بھی ظاہر ہوئی ہیں البتہ تحریک انصاف نے معاشی صورتحال کے معاملہ میں جو تاثر دیا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ تین ماہ کے اندر انقلابی تبدیلیاں لائیں گے وہ کسی طور پر بھی عملی طور پر دکھائی نہیں دے رہا۔ معاشی پالیسیاں نہ صرف کمزور محسوس ہو رہی ہیں بلکہ حکومت کے پاس معاشی منصوبہ بندی کا فقدان عوام کے لئے دن بدن ناقابل برداشت مہنگائی اور بیروزگاری کا نئے سے نیا امتحان کھڑا کر رکھا ہے۔ نئے پاکستان میں پٹرول، گیس، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کو زندگی اور علاج فراہم کرنے والی ادویات کی مہنگائی نے مزید لاچار اور بے بس کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کی ٹیم میں معیشت کو مثالی بنانے کا دعویٰ کرنے والے وزیر خزانہ اسد عمر کا وہ حیرت انگیز فارمولہ اور روڈ میپ اب تک ایک ’’سوالیہ نشان‘‘ بنا ہوا ہے۔ معاشی اصلاحات کی کوئی بھی صورت عوامی سطح پر کسی کو دکھائی نہیں دے رہی اور وہ تبدیلی کی صدائوں کا وہ منظر بھی غائب ہو گیا ہے جو عوام پر معاشی بوجھ کم کرنے کے دعوے کرتا تھا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ معاشی پالیسیوں کے حوالہ سے حکومت کی طرف سے تعینات کئے جانے والے ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم کو حقائق پر مبنی صورتحال بیان کرنے پر عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم اور حکومتی وزراء کی طرف سے بار بار پھر دعوے کئے جا رہے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد معاشی پالیسیوں کے ثمرات عوام کو نہ صرف نظر آئیں گے بلکہ فراہم ہو جائیں گے لیکن حکومت کے اقدامات اور رویوں سے ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رکھا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ معاشی پالیسیوں کو اس وقت مضبوط تصور کیا جاتا ہے جب ملک میں سیاسی بحران کا وجود نہ ہو۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ منظر واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں محاذ آرائی کا رجحان دن بدن بڑھ رہا ہے حالانکہ حکومت کے فرائض میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر استحکام پیدا کرنے کا ماحول فراہم کرے اور اپوزیشن کو ملک کے مفاد میں ساتھ لے کر چلنے کی روایات کو آگے بڑھائے۔ پارلیمنٹ کے ماحول سے یہ محسوس ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے شروع سے ہی ایسا جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ کوئی معاملہ بھی افہام و تفہیم سے نہ طے ہو سکے۔ اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت کے احتساب کے حوالہ سے وزیراعظم اور ان کے وزراء کے تلخ بیانات سے اپوزیشن اور کئی حلقوں نے احتساب کی شفافیت پر سوال اٹھا دیئے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ احتساب کے معاملہ میں جانبدارانہ رویے نے اپوزیشن کو اس بات پر متفق کر دیا ہے کہ ان کے ساتھ احتساب نہیں ہو رہا بلکہ ان سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت بالخصوص شریف فیملی کے افراد کو احتساب کا جس انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اس بارے میں وہ واشگاف انداز میں الزام لگا رہے ہیں کہ اُن کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ کے سلسلہ میں بننے والی جے آئی ٹی کو بھی اُن کی قیادت نے حکومتی ٹیم کا حصہ قرار دیا ہے اور حکومت کی طرف سے بنائے جانے والے مشیر احتساب شہزاد اکبر کو ’’احتساب اکبر‘‘ کا خطاب دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ تیار کرنے والوں سے مل کر مشترکہ طور پر مذکورہ مشیر اور دیگر وزراء نے یہ ’’ڈرامہ‘‘ کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ حکومت خود اپنی سیاسی اور معاشی منصوبہ بندیوں کی وجہ سے اپوزیشن کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ ابھی تک حکومت کو اس لئے برتری حاصل ہے کہ اپوزیشن ابھی تک ’’گرینڈ الائنس‘‘ بنانے کے معاملہ میں کچھ نہیں کر سکی اور بعض پہلوئوں پر ایوان کی دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال جوں کی توں رہی۔ البتہ اب اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو احساس ہو گیا ہے کہ حکومت کے خلاف متحد ہونے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہ ہے۔ ایسی صورتحال میں کیا حکومت گرینڈ اپوزیشن سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ صوبائی دارالحکومت میں بھی سیاسی سرگرمیاں بڑے عروج سے جاری ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اکثر آتے ہیں اور اپنی دھواں دار گفتگو سے شریف فیملی اور زرداری کو نہ صرف ٹارگٹ کرتے ہیں بلکہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین بننے کے وزیراعظم اور حکومتی فیصلہ کو واشگاف طور پر مسترد کرتے ہوئے اس معاملہ میں اعلیٰ عدالتوں میں جانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے محکمہ کی کارکردگی پر مختصر گفتگو کرنے کے بعد اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت پر زبردست تنقید کرتے ہیں اور ’’جوش خطابت‘‘ میں کئی ایسے فقرے بھی کہہ جاتے ہیں جو بعد میں بحث کا موضوع بنے رہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اب آہستہ آہستہ انتظامی امور کی طرف توجہ دے رہے ہیں حالانکہ کچھ کردار ابھی بھی ’’شمس ٹو‘‘ بن کر صوبے میں اپنے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بعض مستند ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے بعد انہوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے یہ احکامات جاری کئے کہ کوئی بھی رشتہ دار بن کر صوبے کے کسی بھی محکمہ میں کام کرنے کے بارے میں فون کرے تو اس کو نہ صرف انکار کیا جائے بلکہ سی ایم سیکرٹریٹ کو مطلع کیا جائے۔ بیورو کریسی کے بیشتر افسران تذبذب کے عالم میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں اور ہر طرح کے کاموں کی فائلوں کو نپٹانے کے سلسلہ میں گریز سے کام لے رہے ہیں اور خصوصی طور پر بڑے منصوبوں کے سلسلہ میں عملی اقدامات بھی دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ سرکاری سرکاری افسران اپنے اُن افسران کی وجہ سے بھی اس طرح کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں جو آج کئی میگا منصوبوں کی وجہ سے زیرعتاب ہیں۔ پولیس ریفارمز کے معاملہ میں اب تک تین کمیٹیاں بن چکی ہیں۔ وزیراعظم کی طرف سے ناصر درانی کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کے انجام کے بعد اب تک دو مزید کمیٹیاں بن گئی ہیں۔ حالیہ کمیٹی صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور دیگر افسران پر مشتمل ہے لیکن تاحال پولیس ریفامز کے سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں