31

حکومت کے اتحادی ناراض ہیں یا پھر نئی ڈیل چاہتے ہیں؟

پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی قائدین چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی ملکی سیاست میں دبنگ انٹری نے خاصی ہلچل مچا رکھی ہے گوکہ وہ سیاست میں ہمیشہ ہی موجود رہتے ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں ان کا نہ تو کوئی حکومتی کردار ہے اور نہ ہی سیاسی کردار نظر آتا تھا چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی کے سپیکر ضرور ہیں لیکن کہاں پرویز مشرف کے دور میں صوبے کے وزیر اعلیٰ اور آصف زرداری کے دور میں ’’نائب وزیراعظم‘‘ اور کہاں محض صوبے کی اسمبلی کے ’’ہیڈ ماسٹر‘‘ یقیناً وہ اس صورت حال کونہ چاہنے کے باوجود قبول اور تسلیم کرنے پر مجبور تھے اور اس تمام عرصے میں ایک اہم اتحادی جماعت کی حیثیت رکھنے کے باوجود وہ مونس الٰہی کو وزیر بھی نہ بنوا سکے یقیناً اس بات کا قلق ہونا ایک فطری سی بات ہے۔

بیشک وہ اس کا اظہارنہ بھی کریں حالانکہ اگر وہ وفاقی حکومت سے اپنی حمایت کی اتحادی حیثیت ختم کر دیں تو پنجاب میں پی۔ ٹی۔ آئی کی حکومت بحران میں مبتلا ہو سکتی ہے اور قومی اسمبلی میں بھی اس کے اثرات نتیجہ خیز ہونے کی حد تک متاثر کن ہو سکتے ہیں لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی روایتی وفاداری کے ہاتھوں مجبور ہیں جو انہیں ورثے میں ملی ہے۔ بہرحال گزشتہ دنوں ان کی پرشور انٹری بادی النظر میں مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ اور اسلام آبادمیں دھرنے کے حوالے سے ہوئی ہے۔

چوہدری برادران آزادی مارچ کے دھرنے میں مولانا فضل الرحمٰن کی مدد کو اس وقت پہنچے تھے جب حکومت اور جے یو آئی کے درمیان صورت حال ڈیڈ لاک کا شکار ہو چکی تھی اورمولانا خاصے متفکر دکھائی دیتے تھے ہر چند کہ وہ کنٹینر پر آکر اپنے کارکنوں کا حوصلہ قائم رکھنے کے لئے پرجوش تقاریر میں بلند بانگ دعوے کیا کرتے تھے لیکن انہوں نے بعض ٹی۔ وی اینکرز سے کنٹینر کے اندر اور اپنی رہائش گاہ پر آف دی ریکارڈ جو گفتگو کی اس سے وہ خاصے دل برداشتہ دکھائی دیتے تھے جس میں اشتعال کے ساتھ ساتھ قدرے مایوسی اور دل شکستگی بھی محسوس کی جا سکتی تھی اور ساتھ ساتھ صورت حال سے اس انداز میں نکلنے کی خواہش بھی نظر آتی تھی جس میں ان کی ہزیمت کا پہلو نہ نکلتا ہو۔

صورت حال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک موقع پر مولانا یہاں تک چلے گئے تھے کہ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم وزیراعظم کا استعفیٰ لینے کے مطالبے سے دستبردار ہو جاتے ہیں تو ہمیں استعفے کے مساوی کسی چیز کی پیشکش تو کی جائے جو ہم قبول کر لیں۔ ان حالات میں چوہدری برادران کا ان کی مدد کو پہنچنا ایک ’’سیاسی نعمت مترقبہ‘‘ سے کم نہیں تھا۔

اسلام آباد میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی گئی تھی کو مولانا فضل الرحمٰن نے چوہدری برادران کو خود اسلام آباد آنے کی دعوت دی تھی لیکن بعد میں چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعظم نے کردار ادا کرنے کے لئے کہا تھا۔ (شاید پھر وضعداری) یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چوہدری برادران جو ایک انتہائی اور بااثر مفاہمت کار کی شہرت کا حوالہ رکھتے ہیں لیکن نواب اکبر بگٹی اور لال مسجد کے واقعہ میں ان کی مفاہمت کاری کے نتیجے میں خوفناک حکومتی آپریشن ہوئے تھے تاہم اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے اس حوالے سے بتایا کہ ہم استعمال ہوئے تھے اور اسی لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ ایسے معاملات میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے لیکن حکومت کے اتحادی ہونے کے باعث جب ہمیں کہا گیا تو ہم انکار نہ کر سکے۔

تین مرتبہ ملک کے منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کی اسے سیاسی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ تینوں مرتبہ اپنے منصب کی آئینی مدت مکمل نہیں کر سکے اور انہیں اپنے دور حکمرانی میں مختلف سطحوں پر مشکلات اور محلاتی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔سیاسی سطح پر 2014 میں پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں ان کی ایک سخت حریف کے طور پر سامنے آئی اور اس سال اسلام آباد میں 126دن کا طویل دھرنا ان کے لئے مسلسل مشکلات کا سبب بنا رہا لیکن میاں نواز شریف اور ان کے رفقا نے اس صورت حال کا بھی مقابلہ کرلیا لیکن 2016 میں پانامہ لیکس نے انہیں اعلیٰ عدالتوں میں لاکھڑا کیا جہاں سے ان کے سیاسی مستقبل کو تاریک کرنے کا فیصلہ سنایا گیا۔

ان فیصلوں میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دیا گیا اور اس طرح ان پر پارلیمانی سیاست کے دروازے بند ہو گئے۔ نااہلی کے بعد نیب ریفرنسز میں میاں نواز شریف کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں اسیری کے شب و روز گزارنے پڑے اور وہ شدید علیل ہو گئے اور اب صحت کے خطرناک حد تک مسائل کے باعث کم و بیش دو ہفتوں کی سیاسی، عدالتی اور حکومتی پیچیدگیوں کے بعد علاج کے لئے لندن روانہ ہوگئے۔ عدالت نے سابق وزیراعظم کو چار ہفتے تک بیرون ملک رہنے کی اجازت دی ہے۔

تاہم ان کی وطن واپسی ان کی بحالی صحت کے ساتھ مشروط ہے۔ میاں شہباز شریف ان کے ہمراہ گئے ہیں جبکہ مریم نواز کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ بھی بیرون ملک جا سکتی ہیں۔ میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے بعد سیاسی حلقوں میں اس وقت سب سے بڑا سوال جو موضوع بحث ہے وہ یہ کہ کیا میاں نواز شریف وطن واپس آئیں گے یا پھر بحالی صحت کے ساتھ ساتھ ملک میں اپنے لئے موزوں سیاسی حالات کا انتظار کریں گے؟

آخری مرتبہ میاں نواز شریف اس وقت لندن سے واپس آئے تھے جب بیگم کلثوم نواز شدید علالت کے باعث لندن کے ہسپتال میں داخل تھیں اور میاں نواز شریف نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان آکر گرفتاری پیش کر دی تھی اور اسیری کے دوارن ہی ان کی اہلیہ لندن کے ہسپتال میں انتقال کر گئی تھیں۔ یہ حقیقت بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ جلاوطنی ہو یا بیماری میاں نواز شریف جب بھی بیرون ملک گئے ہیں واپس ضرور آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں