35

معیشت کی بحالی: روڈ میپ کا اعلان ہونا چاہئے

موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے پانچ ماہ ہو گئے ہیں حکومت کا ہنی مون پیریڈ گزر چکا ہے اور اب کارکردگی کے حوالے سے پی ٹی آئی کی حکومت کو عوامی دبائو کا سامنا ہے۔ عوام نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کو متبادل قیادت کے طور پر منتخب کیا۔ عمران خان پر بلند امیدوں کے ساتھ اعتماد کا اظہار کیا لیکن ابھی تک حکومت عوامی توقعات پر پوری اترتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ حکومت اپنے وعدوں کے مطابق ڈیلیور نہیں کرسکی۔ عوامی امیدیں اب ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم ابھی تک ناکام نظر آرہی ہے ابھی تک نئی حکومت واضح معاشی روڈ میپ نہیں دے سکی۔ نہ کوئی سمت کا تعین نظر آتا جس کی وجہ سے ملک میں بے یقینی کی فضا ہے۔ سرمایہ کاری کا عمل بےیقینی کی فضا میں رک جاتا ہے۔ عمران خان 18 اگست کو وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ نئی حکومت نے کہا کہ ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ہم 15 نومبر تک معاشی روڈ میپ بنالیں گے ہم نے ایڈوائزری کونسل بنا دی ہے۔ آج 17 جنوری ہے ابھی تک وہ معاشی روڈ میپ سامنے نہیں آسکا۔ سابقہ حکومتوں پر پی ٹی آئی یہ تنقید کرتی تھی کہ انہوں نے عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے کیونکہ2017-18میں 30 ہزار ارب روپے کے ملکی و غیر ملکی قرضے لئے گئے لیکن رواں سال جولائی سے نومبر تک صرف پانچ ماہ کے دوران2240 ارب روپے کا ملکی و غیر ملکی قرضہ لیا گیا۔ یعنی موجودہ حکومت بھی ماضی کی طرح قرضوں پر انحصار کر رہی ہے۔ وجہ یہ ہےکہ حکومت کی آمدن کم ہے اور اخراجات زیادہ ہیں۔ موجودہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہم ایف بی آر کا سربراہ کسی پروفیشنل کو لگائیں گے۔ نجی شعبہ سے کسی پروفیشنل کا انتخاب تو کیا کرنا تھا حکومت نے ایک ڈی ایم جی افسر ڈاکٹر جہانزیب کو ایف بی آر کا چیئرمین لگا دیا حالانکہ ان لینڈ ریونیو سروس اور پاکستان کسٹم سروس کے گریڈ 22 کے افسران موجود تھے۔ ایک تو ڈی ایم جی افسر کو ٹیکس نظام سمجھنے میں وقت لگے گا دوسرے یہ کہ ایف بی آر کے افسروں میں اس سے ناراضگی پیدا ہوئی اور وہ چیئرمین سے عملی تعاون نہیں کرتے لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ جولائی سے دسمبر تک ریونیو مقررہ ہدف سے172 ارب روپے کم وصول ہوا ہے۔ بہر حال یہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے زمرے میں آئے گا۔ پی ٹی آئی کا بطور اپوزیشن یہ کہنا تھا کہ ایف بی آر میں کرپشن ہوتی ہے اور اربوں کا ٹیکس چوری ہوتا ہے کیونکہ حکمران خود چور اور ڈاکو ہیں۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ دیانتداروں کی حکومت میں ٹیکس وصولی میں اضافے کی بجائے کمی کیوں ہورہی ہے۔ حکومت ابھی تک سٹیل ملز اور پی آئی اے کے بارے میں واضح فیصلہ نہیں کر سکی یہ دونوں سفید ہاتھی ہیں۔ سٹیل ملز200 ارب روپے اور پی آئی اے 416 ارب روپے کی مقروض ہے۔ بے شک ان اداروں کو یہاں تک پہنچانے میں ماضی کی حکومتوں کا کردار ہے مگر اب جو نقصان ہورہا ہے وہ تو بہر حال موجودہ حکومت کے کھاتے میں جائے گا لہٰذا اداروں کے بارے میں جرأت مندانہ فیصلہ کیا جائے۔ ملکی معیشت کا ایک اہم مسئلہ تجارتی خسارہ ہے۔ 2017-18میں تجارتی خسارہ37.68ارب ڈالر تھا۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے برآمدات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ جولائی سے دسمبر تک تجارتی خسارہ 16 ارب20 کروڑ ڈالر رہا جو پچھلے سال سے بہر حال کم ہے لیکن حکومت جب تک برآمدی صنعت کو ریلیف نہیں دیگی ان کی پیداواری لاگت میں کمی نہیں لائے گی، اس وقت پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقتی اہلیت کی حامل نہیں بن سکیں گی۔ برآمد کنندگان کے 200 ارب روپے کے کلیمز ہیں جن میں سے آٹھ نو ارب کی ادائیگی کی گئی ہے۔ حکومت نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر کے 226 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرلیا ہے لیکن اس سے جہاں عوام پر بوجھ پڑا ہے وہاں صنعت کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ جب تک حکومت کاروبار کو آسان نہیں بنائے گی اس وقت تک ملک میں بزنس کو فروغ نہیں مل سکتا۔ اب وزیراعظم عمران خان نے اس پر توجہ دی ہے اور وزیر خزانہ اسد عمر نے تاجروں اور صنعتکاروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ وزیر خزانہ 3 جنوری کو قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ کی صورت میں نیا پیکج لارہے ہیں تاکہ سرمایہ کار راغب ہوں اور یے یقینی کی صورتحال کا خاتمہ ہو۔ بے یقینی کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ 53 ہزار پوائنٹس سے گر کر 27 ہزار تک چلی گئی تھی جو اب دوبارہ ایک دو ہزار اوپر آئی ہے۔ سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضہ بھی حکومت کے قابو میں نہیں آرہا۔ پچھلے سال گردشی قرضہ950 ارب روپے تھا جو اب 1400 ارب تک پہنچ چکا ہے۔ بجلی اور گیس اربوں روپے کی چوری ہوتی ہے۔ بجلی کے لائن لاسز کنٹرول نہیں ہو رہے۔ اب تو بجلی چوری کی سزائیں بھی سخت ہیں مگر عملہ کی کارکردگی نظر نہیں آئی۔ نومبر میں ڈیڑھ ارب روپے کی بچت کی گئی ہے مگر خسارہ بہت زیادہ ہے۔ اس سیکٹر میں محنت کی ضرورت ہے۔ ترسیلات زر کے شعبہ میں وزیراعظم نے دلچسپی لی ہے تاکہ ہنڈی کا خاتمہ ہو اور اوورسیز پاکستانی بنکنگ چینل سے رقوم بھیجیں۔ زر مبادلہ کے ذخائر اس وقت 14 ارب ڈالر سے کم ہیں۔ اکتوبر 2016 میں زر مبادلہ کے ذخائر24 ارب 40 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیلئے حکومت نے سعودی عرب سے تین ارب ڈالر لئے ہیں جن میں سے دو ارب ڈالر مل چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے تین ارب ڈالر کا اعلان کیا ہے۔ چین سے بات چیت جاری ہے۔ امکان ہے کہ چین سے دو ارب ڈالر مل جائیں گے۔ آئی ایم ایف کے بارے میں حکومتی پالیسی ابہام اور تضادات کا شکار ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر آئی ایم ایف کو خطوط لکھ رہے ہیں رابطے میں ہیں۔ جب کے وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ ہم دوستوں سے ادھار لے رہے ہیں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے میں کوئی جلدی نہیں ہے۔ اعلیٰ ترین سطح پر ایسے ریمارکس سے عالمی سطح پر منفی سگنلز جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اسد عمر کے رویہ کے بارے میں بھی شکایت کی ہے کہ وہ میٹنگ کیلئے تیار ہو کر نہیں آتے۔ مختصر یہ کہ حکومتی رویہ آئی ایم ایف کے بارے میں غیر سنجیدہ اور غیر واضح نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا تھا تو ڈالر کی قیمت میں اتنا اضافہ کیوں کیا جس سے ملکی معیشت کی بنیادیں ہل گئیں۔ وزیراعظم عمران خان خود معاشی ٹیم کا محاسبہ کریں کہ ان کی پانچ ماہ کی کارکردگی کیا ہے اگر ایف بی آر ریونیو و صولی میں اضافہ نہیں کریگا۔ اگر برآمدات میں اضافہ نہیں ہو گا۔ اگر سرکلرڈیٹ میں کمی نہیں آئے گی خسارے میں جانے والے اداروں سٹیل ملز، پی آئی اے، محکمہ ڈاک، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور ریلوے پر توجہ نہیں دی جائے گی تو ملکی معیشت بحال نہیں ہو سکے گی۔ سیاسی محاذ پر اس وقت پہلی مرتبہ حکومت اور اپوزیشن میں تعاون کا راستہ کھلا ہے۔ وزیراعظم نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل منظور کرانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیلئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر دفاع پرویز خٹک پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے۔ فوجی عدالتیں دہشتگردی کے کیسز جلد نمٹانے کیلئے2013 میں بنائی گئیں۔ 2015 میں ان کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کی گئی۔ اب پھر دو سال کی توسیع دینے کی تجویز ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ 4سالوں کے دوران ریگولر کورٹس کو کیوں اتنا بہتر نہیں کیا گیا کہ وہ دہشتگردی کے کیسز نمٹا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں