91

ٹی بی کے مریضوں کی شرح اموات میں اضافہ

تپ دق کے مرض سے شرح اموات میں اضافہ، ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والی ٹی بی کے مریض بڑھ گئے۔ 

محکمہ پرائمری ہیلتھ کے اعداد وشمار کے مطابق ایک سال میں ٹی بی سے پنجاب میں 3783 اموات ہوئیں۔سیکریٹری پرائمری ہیلتھ کی زیر صدارت پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پنجاب بھر میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ شرح اموات بھی بڑھ گئی ہے خاص طور پر ادویات کے خلاف مزاحمت کی حامل ٹی بی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔برائلر کی رسد میں کمی کے باعث گوشت مزید مہنگا

 اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹی بی کنٹرول پروگرام کے پی سی ون کے طے شدہ ٹارگٹ کا صرف 84 فیصد حاصل کیا جاسکا، سال2018-19ء  2018 ـ 19 میں شرح اموات ایک اعشاریہ چھ سات فیصد رہی تاہم سال 2019ـ20 میں یہ شرح بڑھ کر ایک اعشاریہ سات ایک فیصد ہوگئی، مجموعی طور پر گزشتہ مالی سال کے دوران صوبے بھر میں ٹی بی سے 3783 اموات ہوئیں۔

 اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں ایک لاکھ 89 ہزار 712 ٹی بی کے نئے مریض سامنے آئے۔ 14 ہزار 239 بچے بھی ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوئے۔ ٹی بی کے ساتھ ایڈز میں بھی مبتلا ہونے والے 539 مریض سامنے آئے۔شہروں میں نالوں کا نظام اپ گریڈ کیا جائے: ایف پی سی سی آئی

 سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کی جانب سے ٹی بی کنٹرول پروگرام کے اہداف کے حصول میں ناکامی پر جواب طلبی کی گئی اور ہدایت کی گئی کہ کارکردگی کو بہتر بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں