23

گھریلو ملازمین کی سنی گئی، نئے قوانین منظور

گھریلو ملازمین کی بھی سنی گئی، گھریلو ملازمین کو سوشل سکیورٹی کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی،محکمہ لیبر کی گورننگ باڈی نے رولز کی منظوری دے دی۔

صوبائی وزیر لیبرعنصر مجید خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری لیبر ڈاکٹر سہیل شہزاد، کمشنر پیسی سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی،کمشنر سوشل سکیورٹی سید بلال حیدرنے مختلف ایجنڈاآئٹمز پر بریفنگ دی، صوبائی وزیر نے کہا کہ گھریلو ملازمین کو سوشل سکیورٹی رجسٹریشن نمبر اور کارڈ جاری کیا جائے گا، ملازم کیساتھ گھر کے مالک کو بھی رجسٹریشن نمبر جاری کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر کے مطابق رجسٹرڈ گھریلو ملازم زخمی ہونے یا کسی بھی بیماری کی صورت میں سوشل سکیورٹی گرانٹ حاصل کر سکے گا، رجسٹرڈ گھریلوملازمین کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، گھریلو ملازمین سے 8 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جاسکے گا۔
صوبائی وزیرکے مطابق پیسی آرڈیننس میں ترمیم کے حوالے سے سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کر دی گئی ہے، سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کے انتظامی امور بہتر طور پر چلانے کیلئے ایڈمنسٹر یٹو کیڈر کی منظوری دی گئی ہے، گورننگ باڈی نے مزدور کارڈ کو صحت سہولت کارڈ کیساتھ منسلک کرنے کابھی فیصلہ کیا ہے، رجسٹرڈ مزدور پنجاب حکومت کے صحت سہولت پروگرام اور مزدور کارڈ سے بھی طبی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔مزدور کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولیات پر پیسوں کی حد مقرر نہیں،پیسی بیرون ملک علاج کا خرچہ بھی برداشت کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں