23

گوجرہ موٹروے زیادتی کیس کا ڈراپ سین، حیران کن انکشافات

گوجرہ کے قریب موٹروے پر کار میں لڑکی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا ۔

ڈی ایس پی گوجرہ وقار احمد نے پریس کانفرنس کے دوران کیس کی پیشرفت اور ڈراپ سین سے متعلق بتاتے ہوئے تفتیش کے دوران ہونے والے کئی حیران کن انکشافات سامنے رکھے۔

وقار احمد نے انکشاف کیا کہ مبینہ متاثرہ لڑکی اور مدعی مقدمہ میں لوگوں کو پھنساکر پیسے بٹورتے تھے، متاثرہ لڑکی اور مدعی مقدمہ بین الاضلاعی گینک کے رکن بھی ہیں،اس گینگ  کے دیگر اراکین میں  واصف، لائبہ عرف صائمہ اور عنصر شامل ہیں۔ 

ڈی ایس پی کے مطابق گینگ نے منصوبہ بنا کر زیادتی کیس کا مقدمہ درج کرایا تھا اور ملزمان سے 50  لاکھ روپے طلب کیے تھے، ان کا گروہ 2 مقدمات میں لوگوں سے بھاری رقم حاصل کر چکا ہے، مدعی مقدمہ خاتون مبینہ متاثرہ لڑکی کی رشتہ دار ہی نہیں ہے، مبینہ متاثرہ لڑکی گوجرانوالہ کی رہائشی راولپنڈی میں کرایہ کے مکان میں رہتی ہے۔

واضح رہےکہ 10 اکتوبر کو ایک خاتون نے موٹر وے پر بھانجی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج کروایا تھا، لڑکی کی خالہ نے ایف آئی آر میں کہا تھا کہ بھانجی کو فون پر میسج کرکے انٹرویو کے لیے گوجرہ بلوایا گیا تھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گوجرہ پہنچنے پر ملزمان نے کہا بھانجی کو گاڑی میں ساتھ بھیج دیں جس گاڑی میں بھانجی کو لے جایا گیا اس میں ایک خاتون اور2 مرد تھے، ملزمان نے موٹروے پر زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے فیصل آباد انٹرچینج پرپھینک کر چلے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں