28

کے پی میں پی ٹی آئی کی انتخابی ناکامی کی اصل وجہ کیا؟

پی ٹی آئی پشاور ،مردان،کوہاٹ اور بنوں میں سٹی میئرکا الیکشن ہار گئی۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جمہوریت مستحکم ہونی چاہیے، پاکستان کی تاریخ میں اتنے بڑے انتخابات ہوئے، انہوں نے کہا کہ مہنگائی  ہار  کی  وجہ بنی لیکن ایزی لوڈ یا کرپشن کا الزام نہیں لگا، جو منتخب ہوکر آئے انہیں فنڈ دیں گے۔

 غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق  پشاور کی میئرشپ کے لیےجے یو آئی ف کے زبیر علی نے 24ہزار 80  ووٹ  لے کر میدان مار لیا ہے۔ ۔ تحریک انصاف کے رضوان بنگش 21ہزار 148ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

بنوں میں بھی سٹی میئر کے الیکشن میں جے یو آئی ف  نے جیت سمیٹ لی ہے۔ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق ،جےیو آئی کے امیدوار عرفان اللہ 37 ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اقبال جدون 24ہزار ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر ہیں۔

کوہاٹ میں سٹی میئر کے الیکشن میں جے یو آئی ف آگے  ہیں۔ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق ، جے یو آئی کے امیدوار شیر زمان 19ہزار ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر، آزاد امیدوار شفیع اللہ کا 18ہزار ووٹوں کے ساتھ دوسرا نمبر ہیں۔

مردان میں سٹی میئر کے انتخاب میں اے این پی کو واضح برتری حاصل ہے۔ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق ، عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار حمایت اللہ 27ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے  ہیں۔ جے یو آئی کے امانت شاہ 18 ہزار ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

 شوکت یوسفزئی نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت پی ٹی آئی کی شکست پر کہا کہ پہلے مرحلے میں انتخابات کے نتائج پر غلطیاں، خامیاں ٹھیک کرنےکی کوشش کریں گے۔  صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم نےاچھے امیدوار کھڑے کیے تھے وہ بھی ہار گئے، مہنگائی بڑی وجہ بنی۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جمہوریت مستحکم ہونی چاہیے، پاکستان کی تاریخ میں اتنے بڑے انتخابات ہوئے، اسی لیے کہہ رہے تھےانتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی وجہ بنی لیکن ایزی لوڈ یا کرپشن کا الزام نہیں لگا، جو منتخب ہوکر آئے انہیں فنڈ دیں گے، کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، مہنگائی دنیا بھر میں ہوئی ،ہمارے یہاں طلب رسد میں فرق کی وجہ سےمہنگائی ہے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلے میں نتائج پہلے مرحلے سے مختلف ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں