310

’’کراچی کو پیکیج نہیں، اپنا حق چاہئیے‘‘

ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ بجٹ کے کاغذات میں کراچی پیکیج کہاں ہے؟ دیگر مسائل کا حل کہاں ہے؟ معیشت کا انجن کراچی ہے، ہرسال یہ وفاقی بجٹ میں لکھا ہونا چاہئے، پیکیج نہیں چاہئے، کراچی کو اپنا حق چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی کو صحیح گنا جائے، ترقیاتی فنڈ آبادی کے مطابق دیا جائے، 15 سو سے 2 ہزار ارب ٹیکس دینے والے کراچی کو اس کا 10 فیصد سالانہ ملنا چاہئے،مستقبل میں کراچی کے ووٹر تحریک انصاف کو 14 سیٹیں تو کیا ایک سیٹ بھی نہیں دیں گے ۔

فاروق ستار نے میڈیا ہاؤسز حملہ کیس کی سماعت کے موقع پر کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اور فیصلہ آیا ہے کہ غیر قانونی عمارتیں گرائی جائیں، چاہے گولیاں چلیں یا چھریاں، ہر حال میں آپریشن ہو گا،اگر بنی گالا کو ریگولائز کیا جا سکتا ہے تو باقی عمارتیں بھی ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سعید غنی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ عمارتیں گرانے کی بجائے وہ مستعفی ہوجائیں گے،ہم منتظر ہیں کہ یہی بات جو سعید غنی کہہ رہے ہیں خالد مقبول صدیقی اور وسیم اختر بھی کہیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ تحریک انصاف تو کہتی تھی کہ الیکشن سے پہلے ہی ان کی معاشی پالیسی تیار تھی، اگر آئی ایم ایف میں ہی جانا ہے تو پھر اگست میں ہی چلے جانا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوست ممالک سے فنڈنگ اور اقدامات میں تاخیر سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی، اب مگرمچھ کے آنسو بہاکر سرمایہ کاروں کو زبردستی دھکا دیا جارہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں