361

ڈپٹی کمشنروں کے تبادلے

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے حال ہی میں تین اضلاع کے دورے کئے ہیں اور تینوں جگہ پر انہوں نے اس ضلع کے ڈی سی کا تبادلہ کر دیا ہے۔ سردار عثمان بزدار نے اپنے فیلڈ دوروں کے دوران شہباز شریف سٹائل اپنانا شروع کر دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ سول سرونٹ کو تحفظ حاصل ہوتا تھا اور سول سرونٹ کا دو سال سے قبل تبادلہ نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں اس حوالے سے تحفظ حاصل ہوتا تھا۔ لیکن گزشتہ دس سالوں میں مسلم لیگ نون کے دور میں کسی افسر کو یہ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کل وہ اپنی سیٹ پر ہوگا بھی یا کہ نہیں۔یہ بھی لازمی پڑھیں:ڈپٹی میئرز کے تبادلوں کے اختیارات کھٹائی میں پڑ گئے

وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے سیالکوٹ کا دورہ کیا تو وہاں کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر محمد طاہر وٹو کو تبدیل کر کے او ایس ڈی بنا دیاگیا اور ابھی تک انہیں تقرری نہیں دی گئی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے گوجرانوالہ کا دورہ کیا تو وہاں کے ڈی سی رائے منظور ناصر کو او ایس ڈی بنا دیا گیا اور ابھی تک وہ محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے تقرری لینے کے چکر لگا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا دورہ کیا تو وہاں کے ڈی سی احمد خاور شہزاد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ اُن پر الزام یہ ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں صفائی ستھرائی کے بہتر انتظامات نہیں تھے۔ حالانکہ صفائی ستھرائی کے کام میں ڈی سی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے یہ خالصتاً بلدیہ کا کام ہوتا ہے۔

 کہا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ بیوروکریسی پر رعب اور دبدبہ پیدا کرنے کے لئے جہاں جاتے ہیں وہاں کے ڈی سی کو تبدیل کر دیتے ہیں ،حالانکہ پی ٹی آئی نے الیکشن کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد بیوروکریسی کو تحفظ فراہم کرے گی اور کسی بھی افسر کو بے جا تنگ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اب نیب کی وجہ سے افسران مسلسل ہراساں ہیں اور کوئی بھی افسر دستخط کرنے سے گھبراتا ہے کہ کہیں کل کلاں وہ بھی کسی مسئلہ میں پھنس نہ جائے۔ ڈپٹی کمشنروں کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے انہیں اختیار تو دے پھر ان کا آڈٹ بھی کر لے۔ ضلع میں ڈی سی کے پاس بہت کم اختیارات ہیں۔ حکومت نے اضلاع کے ڈی سی کو بہت کم اختیارات دیئے ہیں اور یہ کہ صفائی ستھرائی کا نظام ان کے ماتحت نہیں۔

 ایک جانب اضلاع کے فیلڈ افسران وزیر اعلیٰ کے بے جا تبادلوں سے پریشان ہیں اور دوسری جانب نیب کی وجہ سے پریشان ہیں کہ نیب جس کو چاہے بلا لیتا ہے۔ جس کی وجہ سے پنجاب کی افسر شاہی پریشان ہے اورخاص طور پر جو افسران میاں شہباز شریف کے قریب رہے ہیں وہ تو انتہائی پریشان ہیں کہ نجانے کب ان کی باری آ جائے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ افسر شاہی کو تحفظ بھی فراہم کرے اور اگر کوئی کام نہیں کرتا ہے یا مس کنڈکٹ کا ذمہ دار ہوتا ہے تو اس کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے۔یہ بھی لازمی پڑھیں:حکومت کی جانب سے متعدد افسران کے تبادلے

بے تکے اور پے در پے تبادلے کرکے سوائے افسر شاہی میں خوف وہراس پیدا کرنے کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ سابق ڈی سی سیالکوٹ محمد طاہر وٹو اور سابق ڈی سی گوجرانوالہ رائے منظور ناصر خاموشی سے سائیڈ لائن ہو گئے ہیں جبکہ تبدیل ہونے والے ڈی سی ٹوبہ نے افسران کو خط لکھا ہے اور اپنی بے گناہی کا واویلا کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے افسران سے خطاب میں یہ کہا تھا کہ افسران میرٹ پر کام کریں انہیں مکمل تحفظ دیا جائے گا ،لیکن اب اس کے بالکل الٹ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں پولیس میں بھی بغیر کسی وجہ کے تبادلے ہو رہے ہیں اور افسران کو بلا قصور پنجاب سے سرنڈر کیا جا رہا ہے۔ سانحہ ساہیوال میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز اظہر حمید کھوکھر کوبغیر کسی وجہ کے تبدیل کر دیا گیا اور انہیں پنجاب بدربھی کر دیا گیا ہے۔

 حکومت کو کسی بھی افسر کے تبادلے سے قبل اس کی مکمل انکوائری کرانی چاہئے تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو اور اگر کوئی انکوائری میں گنہگار ثابت ہو جائے تو پھر اس کا تبادلہ کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ انتظامی معاملات میں بہتری بیورو کریسی ہی لاسکتی ہے،کیوں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے، کے مصدق بیوروکریسی ہی انتظامی امور کو بہتر اندازمیں چلاسکتی ہے۔سیاستدان یا وزراءتو صرف لائن آف ایکشن دیتے ہیں۔ عملدرآمد بیورو کریسی نے کرناہوتاہے۔

اگرعزت واحترام دے کرکام لیاجائے تو بیوروکریسی انتہائی ذمہ داری سے کام کرے گی اور اگر شہباز شریف کی طرح رعب، دبدبہ اور خوف وہراس پھیلا کربیوروکریٹس کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیاجائے تو یہ جہاں بیوروکریٹس کیلئے مشکلات پیدا کرے گا۔ وہیں حکومت کیلئے بھی پریشانی کاباعث ہوسکتا ہے۔نئی حکومت کی ابھی ابتداءہے۔ حکومت ذمہ دارانہ کرداراداکرے،اور بیورو کریسی کو ساتھ لیکرچلے۔ اس سے جہاں انتظامی امور میں بہتری آئے گی وہاں حکومتی ساکھ بھی بہترہوگی۔ جب سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے،عوام ابھی تک منتظر ہیں کہ حکومت کچھ ڈلیور کرے، مگر تاحال حکومت کچھ ڈلیور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، ایسی صورتحال میں اگربیوروکریسی بھی بدظن ہوجاتی ہے تو حکومت کیلئے آگے بڑھنا مزید مشکل ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں