129

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے آفٹر شاکس

 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے آفٹر شاکس، ترقیاتی سکیموں کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ، شہر کے 6 قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں 17 کروڑ سے زائد کی 36 ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز منسوخ کردیئے گئے۔پنجاب اسمبلی میں 1 کھرب 7 ارب کے مطالبات زر منظور

 میٹروپولیٹن کارپوریشن کی 17 کروڑ سے زائد کی 36 ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز منسوخی کی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ایم سی ایل کنٹریکٹرز کا ٹینڈرنگ میں حصہ لینے سے انکار ہے، کنٹریکٹرز نے ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز ہی وصول نہیں کیے، کنٹریکٹرز کی عدم دلچسپی کے باعث میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز منسوخ کردیئے۔لاک ڈاؤن میں مزید توسیع، نوٹیفکیشن جاری

ذرائع کے مطابق این اے 130 کی 3 کروڑ 33 لاکھ کی 2 میگا ترقیاتی سکیمیں جبکہ این اے 135 کی سادھوکی ڈرین کی بحالی کی 1 کروڑ 94 لاکھ کی ترقیاتی سکیم کا ٹینڈر منسوخ کیا گیا، پی پی 149 کی 3 کروڑ 80 لاکھ کی 16 ترقیاتی سکیمیں، پی پی 158 کی 3 کروڑ 50 لاکھ کی ترقیاتی سکیموں جبکہ پی پی 151 کی یونین کونسل 76، یونین کونسل 89، یونین کونسل 90 اور 92 کی ایک کروڑ 23 لاکھ کی 4 ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز منسوخ کر دیئے گئے، میٹروپولیٹن کارپوریشن کی 4 کروڑ 10 لاکھ کی 14 ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز بھی منسوخ کردیئے گئے.پنجاب میں آج ختم ہونیوالے لاک ڈاؤن کے بعد نئی حکمت عملی کیا ہوگی؟

واضح  رہے کہ وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کردیں، جس کا اطلاق 26 جون 2020ءسے ہوگیا، پٹرول کی قیمت میں 25 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 100 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 21 اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 31 روپے سے زائد کا اضافہ کیا ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 101 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت 59 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں ازخود اضافہ کردیا،ٹرانسپورٹرز نے مختلف شہریوں کے کرایوں میں 20سے 25فیصداضافہ کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں