180

پنجاب میں گیس بحران شدت اختیار کر گیا

وسم تبدیل ہوتے ہی پنجاب میں گیس کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا۔ سوئی ناردرن گیسکمپنی نے صنعت، سی این جی اور پاور پلانٹس سمیت دیگر سیکٹرز کو گیس کی فراہمی معطل کر دی۔یہ بھی لازمی پڑھیں:ریسکیو 1122 ایمبولینسز کی خریداری کا منصوبہ لٹک گیا

 پاور پلانٹس کو گیس بند ہونے پر بجلی کا بحران پیدا ہونے کے خدشات بھی پیدا ہو گئے۔ موسم میں تبدیلی کے باوجودگیس بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ جس کی وجہ سے شہر سمیت پنجاب بھرکی صنعتوں کو ایک بار پھر گیس کی فراہمی معطل کر دی گئی ہے۔ سوئی ناردرن کی جانب سے کھاد بنانے والی فیکٹریوں اور سی این جی سٹیشنز کو بھی گیس بند کی گئی ہے۔

سوئی ناردرن حکام کے مطابق پی ایس او کارگو کے لنگر انداز نہ ہونے کے سبب ٹی ون اینگرو ٹرمینل سے آر ایل این جی ری گیسیفکیشن کم ہوکر 220 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے۔

 اس وقت دستیاب آر ایل این جی کی مقدار چھ سو ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ ایل این جی کی درآمد متاثر ہونے کی وجہ سے گیس فراہمی معطل ہے۔سسٹم میں صرف چار ملین ایل این جی موجود ہے۔صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی گیسفراہمی بھی بحال کردی جائے گی۔یہ بھی لازمی پڑھیں:شہر میں ڈاکو بے لگام، پولیس خاموش تماشائی

دوسری جانب شہریوں کوگیس کے بھاری بلوں کے علاوہ کنکشن منقطع کرنے کے حوالے سے جعلی نوٹس بھی ملناشروع ہوگئے ہیں۔مافیا نے میٹر خراب ہونے اور زائد بل بھجوانے کی دھمکی پر مبنی جعلی نوٹسز گھروں میں بھجوا دیئے۔ نوٹسزپر کمپنی کی مہر اور موبائل نمبر بھی درج ہیں۔نوٹسزمیں کہاگیاہے کہ سات روز میں رابطہ کیا جائے۔ ورنہ کنکشن کاٹ دیا جائیگا۔ صارفین کی بڑی تعداد شکایات لے کر ایس این جی پی ایل کے کسٹمر سروسز سنٹر پہنچ گئی۔

شکایات موصول ہونے پر سوئی ناردرن گیس کمپنی نے وضاحت جاری کر دی۔ سوئی ناردرن حکام کے مطابق گھروں میں جانے والے نوٹسز سے کمپنی کا کوئی تعلق نہیں۔نوٹس ملنے پر فوری طور پر متعلقہ دفتر سے رجوع کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں