81

پنجاب میں کورونا کی وبا سے صوبائی خسارہ بلند ترین سطح تک پہنچ گیا

 پنجاب میں کورونا وائرس کی وبا سے صوبائی خسارہ بلند ترین سطح تک پہنچ گیا،  کورونا  کی وبا سےصوبہ 6 کھرب 64 ارب کےخسارے میں چلا گیا، محکمہ خزانہ پنجاب میں صوبائی خسارے پراعدادو شمار سے متعلق حکومت کو آگاہ کردیا ۔مزید خبریں:بجٹ میں تاجروں کوبڑی چھوٹ ملنے کا امکان

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کی وبا سے صوبائی خسارہ بلند ترین سطح تک پہنچ گیا،  کورونا  کی وبا سےصوبہ 6 کھرب 64 ارب کےخسارے میں چلا گیا، محکمہ خزانہ پنجاب میں صوبائی خسارے پراعدادو شمار سے متعلق حکومت کو آگاہ کردیا ۔ پنجاب حکومت کووفاق سے 10 کھرب کا ملنے صوبائی شئیر بھی مکمل نہ مل سکا۔

ذرائع کا کہنا ہے جہ پنجاب حکومت رواں سال 10 کھرب سےصرف 5 کھرب 38 ارب کا شئیرمل سکا، پنجاب حکومت اپنےمحصولات کی مدمیں صرف 1 کھرب 26 ارب ہی جمع کرسکی، پنجاب میں محصولات کا ہدف 3 کھرب 50 ارب روپےسے زائد مقرر کیا گیا تھا ۔مزید خبریں:اچھرہ بازار :بازار کھلتے ہی رش بڑھ گیا،احتیاطی تدابیر نظر انداز

اس سے قبل   ایشن ڈویلپمنٹ اور پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ  کے جاری کردہ  اعداد و شمار  میں کہا گیا تھا کہ   پنجاب میں  صوبائی معشیت کا مکمل لاک ڈاؤن کرنے سے 23 کھرب کا نقصان ہوگا.  درمیانے درجے کے لاک ڈاؤن سے صوبائی معشیت کو 11 کھرب 10 کروڑ کا نقصان ہوگا، معمولی درجے لے لاک ڈاون سے صوبائی معشیت کو 1 کھرب 43 ارب روپے کا نقصان ہوگا اور مکمل لاک ڈاؤن کرنے سے 1 کروڑ 12 لاکھ افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں۔مزید خبریں:کورونا مریضوں کے لیے تابوت میں تبدیل ہونے والا بیڈ تیار

درمیانے درجے کے لاک ڈاؤن سے صوبے میں 90 لاکھ 30 ہزار لوگ اپنی نوکریاں کھو سکتے ہیں، معمولی درجے کے لاک ڈاؤن سے 10 لاکھ 80 ہزار افراد کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ ہے۔  نئی رپورٹ کے مطابق  پنجاب میں غربت بڑھنے کا اندیشہ 54 فیصد ظاہر کیا گیا ہے، مکمل لاک ڈاؤن ہونے سے صوبے میں غربت 34.3 فیصد بڑھ سکتی ہے، درمیانے درجے کے لاک ڈاون سے غربت 19.9 فیصد بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معمولی درجے کے لاک ڈاون سے غربت 9.4 فیصد بڑھ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں