335

پروین رحمان کے ورثاء کو دھمکیوں پر ازخود نوٹس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے  کراچی کی معروف سماجی کارکن پروین رحمان کے ورثاء اور ڈائریکٹر اورنگی پائلٹ پراجیکٹ انور ارشد کو دھمکیوں پر از خود نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ میں پروین رحمان قتل کی سماعت جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو دھمکی آمیز فون کالز کرنے والوں کا پتہ چلانے کی ہدایت کر دی۔

دوران سماعت جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ پروین رحمان کی بہن نے بتایا کہ انہیں اورانور ارشد کو نامعلوم دھمکی آمیز کالز آ رہی ہے ۔ لگتا ہے دھمکیوں کے لیے غیر ملکی فون استعمال ہوا، ہو سکتا ہے کال کرنے والا پاکستانی ہو۔

جسٹس عظمت نےوفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دھمکی آمیز فون کالز کا پتہ چلانے کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایاکہ کابینہ نے پروین رحمان قتل کیس کے لیے جے آئی ٹی کی منظوری دے دی،آئندہ چند روز میں جے آئی ٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر طارق کے بیان کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ۔

واضح رہے کہ اورنگی پائیلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کو سال 2013 میں کراچی کے علاقے منگھوپیر میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا، جب وہ دفتر سے اپنے گھر واپس جا رہی تھیں۔

چوبیس اپریل 2018کو ڈائریکٹر اورنگی پائلٹ پروجیکٹ اور سماجی کارکن پروین رحمان کے قتل کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں