247

نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت کی درخواست پر سماعت

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر سماعت جاری ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میاں نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کر رہا ہے۔

دورانِ سماعت ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث مسلم لیگ نون کے رہنما سردار ایاز صادق، راجہ ظفر الحق، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، مریم اورنگ زیب اور دیگر رہنما کمرۂ عدالت میں موجود ہیں۔

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کے معالج ڈاکٹر لارنس کے خط کا حوالہ دیا۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ ان کی جانب سے لکھے گئے خط کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کے معاملے میں نیب نے سپریم کورٹ میں جو جواب جمع کروایا ہے اس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت کی درخواست میں جان لیوا بیماری کا کوئی مواد نہیں، انہیں کوئی ایسا عارضہ نہیں جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو، کسی میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی سرجری کی سفارش نہیں کی،نواز شریف کے ڈاکٹر لارنس کی رپورٹ غیر مصدقہ اور خود ساختہ لگتی ہے۔

نیب کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو علاج کی تمام سہولتیں دی جا رہی ہیں، ضمانت ملی تو نواز شریف عدالتی حدود سے باہر چلے جائیں گے، ہائی کورٹ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی،نواز شریف زندگی کو لاحق خطرے کو کیس بنا کر بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، لہٰذا ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں