24

نظرثانی درخواست مسترد , 16 ہزار برطرف ملازمین کی مشروط بحالی

 سپریم کورٹ نے 16ہزار برطرف ملازمین کی نظرثانی درخواست مسترد  کردیں ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کچھ ملازمین کو مدت ملازمت کے حساب سے ریلیف دیا گیا ہے، سپریم کورٹ نے سیکڈ ایمپلائز ایکٹ کالعدم قرار دینے کیخلاف نظرثانی اپیلیں مسترد کردیں.سپریم کورٹ کا فیصلہ چارایک کے تناسب سے آیا ،جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ تحریر کیا

سپریم کورٹ نے ری ایمپلائمنٹ ایکٹ کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر اپنے فیصلے میں برطرف ملازمین کو بحال کر دیا ہے۔

جمعے کو سپریم کورٹ نے 16 ہزار ملازمین کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس ایکٹ کے بارے میں اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔ تاہم عدالت نے ملازمین کی بحالی سے متعلق حکومتی تجاویز کو تسلیم کر لیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق گریڈ ایک سے گریڈ سات تک کے تمام برطرف ملازمین کو نوکریوں پر بحال کیا گیا ہے جبکہ گریڈ آٹھ اور اس سے اوپر کے ملازمین کا اگر کوئی ٹیسٹ ضروری تھا تو وہ دینا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے جج عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ سپریم کورٹ سے جاری بیان کے مطابق تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں