110

موٹر سائیکل رکشہ مالکان حکومتی ہدایات نظر انداز کرنے لگے

:شہر میں موٹر سائیکل رکشوں میں سماجی فاصلے کی حکومتی ہدایات کو نظر انداز کیا جانے لگا، رکشہ میں گنجائش سے زائد سواریاں سوارہیں۔ مزید خبریں: اکبری منڈی: گاہک، تاجران حفاظتی تدابیر نظر انداز کرنے لگے

کورونا کی شدت اور اس کو بڑھنے سے روکنے ک کے لئے صوبائی حکومتوں کی جانب سے اپنے اپنے صوبوں میں لاک ڈاون کیا گیا، سماجی فاصلہ برقرار  رکھنے کے  لئے ٹرین، ہوائی جہاز، نجی بس سروس سمیت انٹر سٹی سروس بند کر دی گئی جس سے سڑکیں سنسان ہوگئیں، تاہم شہر کے اندر چلنے والے موٹرسائیکل رکشوں نے حکومتی احکامات ہوا میں اڑا دیئے۔

موٹرسائیکل رکشوں میں سواریاں ایک دوسرے سے جڑ  کر بیٹھی ہیں،جبکہ کچھ رکشے والے ضرورت سے زائد سواریاں بھی بیٹھاکر سڑکوں پر رواں دواں ہیں، پولیس کی جانب سے رکشے میں سوار زائد افرادکو اُتارا جارہا  ہے تاہم اس میں شہریوں کو خود  اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے خود کو محفوظ بنانا ہوگا۔

یاد رہے کہ  کورونا وائرس کے باعث شہر میں لاک ڈاون اور دفعہ144 نافذ کی گئی ہے،لاہور میں 6 افراد زندگی کی بازی ہارچکے، کیسز  کی تعداد 297 تک پہنچ گئی، پنجاب میں کورونا وائرس کے کنفرم مریضوں کی تعداد 2004 ہوگئی، 50قیدیوں، 663 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے,تشویشناک صورت حال کے پیش نظرجزوی لاک ڈاؤن میں 14 اپریل تک توسیع کردی گئی.مزید خبریں:‌سراج الحق نے حکومتی نا اہلی کا بهانڈا پهوڑ دیا

 پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا, ادھر شہر میں لاک ڈاؤن کے 15 ویں روز بھی ناکہ بندی جاری ہے، اب تک 1 لاکھ 10 ہزار 939 شہریوں کو ناکوں پر روک کرسفر کی وجہ پوچھی گئی،1 لاکھ 2 ہزار 573 شہریوں کو وارننگ دے کر واپس گھربھیجا گیا,پولیس کی شہریوں کو گھروں تک محدود رکھنے کی کوشش جاری ہے، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 1406 مقدمات،غیر ضروری سڑکوں پر آنیوالے 95 ہزار سے زائد شہریوں کو وارننگ جاری کی گئی،لاک ڈاؤن کے چودہویں روز سختی نرمی میں بدل گئی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں