156

لاہور کورونا کے شکنجے میں، وینٹی لیٹر مریضوں سے بھر گئے

لاہورمیں  24 گھنٹے کے دوران مزید 23 اموات ہوئیں جبکہ 1226 نئے مریض سامنے آگئے۔ 96 روز میں وائرس سے442 افراد جاں بحق ہوگئے۔  مصدقہ مریض 31 ہزار سے تجاوز کر گئے۔ ہسپتالوں میں تشویشناک حالت کے باعث داخل مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔سمارٹ لاک ڈاون،لاہور میں بند ہونیوالی جگہوں کی مکمل تفصیلات

 لاہور میں 1226 نئے مریض رپورٹ ہونے کے بعد شہرمیں کورونا کیسز 31045 ہوگئے ہیں۔ شہر کے سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کورونا کے شدید علیل مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ 124 مریض ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔ 712 مریضوں کو آئسولیشن وارڈز میں داخل کیا گیا ہے۔کورونا کے سبب نفسیاتی دباؤ کے کیسز بڑھنے لگے، ڈیپریشن میں بھی اضافہ

پنجاب بھر میں کورونا وائرس کے1899 نئے کیسز کی تصدیق کے بعد مصدقہ مریضوں کی مجموعی تعداد 60,138 ہوگئی ہے۔ صوبے میں کورونا سے 53 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس سے اموات کی مجموعی تعداد 1202 ہوگئی ہے۔ کورونا کو شکست دیکر صحت یاب ہونیوالوں کی تعداد 17,825 ہوچکی ہے۔دنیا بھر میں کورونا سے 4 لاکھ51 ہزار اموات، 84لاکھ سے زائد متاثر

سوشل سکیورٹی ہسپتال ملتان روڈ کے ایم ایس ڈاکٹر خالد محمود بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایم ایس کوٹ لکھپت اور سوشل سکیورٹی شاہدرہ کے متعدد ڈاکٹرز اور نرسز بھی کورونا وائرس کا شکارہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں سرکاری ہسپتالوں میں تمام وینٹی لیٹرز بھر گئے، سروسز 32، جناح 15 اورجنرل ہسپتال کے20 وینٹی لیٹرز پر کورونا کے مریض موجود ہیں۔ میوہسپتال میں موجود50 میں سے صرف 3 اور سر گنگارام ہسپتال میں صرف ایک وینٹی لیٹر رہ گیا۔

 چلڈرن کے علاوہ شہر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز پر جگہ ختم ہوگئی۔ ہائی ڈیپنڈینسی یونٹس کے 59فیصد بستر بھر گئے۔ کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے شہر کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں کوئی وینٹی لیٹر دستیاب نہیں ہے۔  ٹیچنگ ہسپتالوں میں 88 فیصد آئی سی یو بیڈز بھر چکے ہیں۔سروسز ہسپتال اورجنرل ہسپتال میں کوئی وینٹی لیٹر خالی نہیں ہے۔ میو ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کیلئے 50 وینٹی لیٹرز مخصوص ہیں جن میں سے ڈیش بورڈ پر صرف 3 وینٹی لیٹر ظاہر کئے جارہے ہیں۔

 گنگا رام ہسپتال میں بھی ڈیش بورڈ کے مطابق صرف ایک وینٹی لیٹر خالی پڑا ہے، شہر کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی شدید علیل مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرز میسر نہیں ہیں اور ہائی ڈپنڈنسی یونٹس میں بھی جگہ کم پڑ گئی ہے۔ جناح ہسپتال، جنرل ہسپتال اور پی کے ایل آئی کے ہائی ڈیپنڈینسی یونٹس میں کوئی بیڈ خالی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں