81

لاہور پر کورونا قہر بن کر ٹوٹ پڑا، 50 افراد جاں بحق، 81 علاقے آج سے سیل

کورونا وائرس خوفناک صورت اختیار کر گیا، لاہور میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا سے 50 اموات ہوئیں جبکہ 934 نئے کیسز سامنے آگئے، 93 روز کے دوران اموات کی مجموعی تعداد 380 اور کیسز کی تعداد 27 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

 شہر کے ہسپتالوں میں شدید علیل مریضوں کی تعداد بڑھ گئی، 330 مریض انتہائی نگہداشت وارڈز میں داخل، 130 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ شہر کے سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کورونا کے 718 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 330 مریض آئی سی یو میں داخل ہیں اور 130 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔کاروباری افراد کو 56 ارب کا ٹیکس ریلیف پیکج ملے گا

  پنجاب بھر میں چوبیس گھنٹے کے دوران مجموعی طور پر 1537نئے کیس سامنے آئے اور 62 اموات کی تصدیق کی گئی ہے، پنجاب میں کورونا وائرس سے اب تک 1031 اموات ہوچکی ہیں اور کیسز کی مجموعی تعداد 54,138 ہو گئی ہے۔

 صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ آزاد جموں کشمیر ناصر ڈار بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے، ناصر ڈار نے خود کو اپنی رہائشگاہ میں قرنطینہ کر لیا، ناصر ڈار کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان کے اہلخانہ کے کورونا ٹیسٹ بھی کرائے گئے جو نیگٹو آئے ہیں۔پاکستان میں کورونا کتنا خطرناک؟ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

ریلوے کے  15سے زائد ملازمین بھی کورونا کا شکار ہو گئے، ذرائع کے مطابق وائرس کا شکار ہونے والوں میں پی برانچ کے اویس، کمپیوٹر آپریٹرشکیل، کنٹرول آفس کے گارڈ راجہ ندیم شامل ہیں، ریکارڈر وقاص احمد، آر ٹی ایل ورکر اسد سمیت دو نامعلوم ریلوے ورکرز اے ایم ای فور کے نائب قاصد یوسف میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

علاوہ ازیں کورونا سے متاثرہ پولیس کے جوانوں کی تعداد ایک ہزار 24 سے بڑھ کر 1661 ہوگئی، جن میں   669 افسر اور اہلکار مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں، 497 صحت یاب ہوکر واپس ڈیوٹیوں پر آچکے ہیں۔ہوشیار! لاہور کے کون کونسے علاقے مکمل سیل کیے جائیں گے؟؟

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب پولیس کے 7 جوان کورونا وائرس سے شہید ہوچکے ہیں، آئی جی پنجاب کے حکم پر اب تک 23 ہزار 719 افسروں اور اہلکاروں کے کورونا ٹیسٹ کرائے گئے جس میں 20 ہزار 546 کی رپورٹس نیگیٹیو اور 2503 کے زرلٹ کا انتظار ہے۔

دوسری جانب شہر کے 81 علاقوں کو آج رات سے کم از کم دو ہفتے کیلئے سیل کردیا جائیں گے، صوبائی وزیرصحت یاسمین راشد کے مطابق متاثرہ علاقوں میں شاہدرہ، والڈ سٹی، مزنگ، شاد باغ، ہربنس پورہ، گلبرگ اور کینٹ کے کچھ علاقوں کو بند کیا جائے گا، نشتر کالونی کے تمام علاقے سیل ہوں گے، علامہ اقبال ٹاؤن کے متاثرہ علاقوں کو بھی بند کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ شہر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کرنے جارہے ہیں، اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر سے بات چیت ہوگئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر دانش افضال نے کہا ہے کہ سیل شدہ علاقوں سے باہر اندر جانے کی اجازت نہیں ہو گی، پورے علاقوں کے بجائے مخصوص گلیاں سیل کی جائیں گی، حکومتی احکامات پر شہر کے 9 علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، عملدرآمد کے لیے ضلعی انتظامیہ کو ہیلتھ ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے۔

ڈی سی کے مطابق زیادہ کیسز والے علاقوں کی نشاندہی اور سیل کرنے کیلئے تحصیل سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں ٹیمیں تشکیل دی چا چکی ہے، متعلقہ علاقے میں موجود اشیاء ضروریہ کی تمام دکانیں کھلی رہیں گی، جس میں پرچون، دو دہی، فارمیسی اور بیکریاں شامل ہیں دیگر تمام دکانوں کو بند رکھا جائے گا، اندرون شہر میں موجود زیادہ مریضوں والی گلیوں کو دو ہفتے کے لیے سیل رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں