26

لاپتہ افراد کو تلاش کرنا ریاست کا کام ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دئے ہیں کہ لاپتہ افراد کو تلاش کرنا ریاست کا کام ہے۔ اگر وہ سرحد پار کرکے افغانستان چلے گئے تو بھی ریاست ہی کی زمہ داری بنتی ہے۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں مسنگ پرسنز کیسز کے عدالتی فیصلوں کے خلاف وفاق کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے روبرو پیش ہو کر حکومتی موقف پیش کیا۔ 

جسٹس عامر فاروق نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ عدالت نے پروڈکشن آرڈر مانگے تھے وہ کہاں ہیں؟ عدالت کو اس چیز سے کوئی مطلب نہیں کہ کمیشن کیسے کام کر رہا ہے۔آپ نے جو رپورٹ دی اس میں تو کمیشن کی تعریفیں کی گئی ہیں جس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ صرف کورٹ کی انڈرسٹینڈنگ کے لیے بتایا تھا کہ کمیشن کیسے کام کرتا ہے وفاق نے پروڈکشن آرڈر کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے مطابق لاپتہ غلام قادر سیکرٹ اسٹیبلشمنٹ کی تحویل میں ہو سکتا ہے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسے کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔چھ ماہ میں پیش نہ کیا گیا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اور یہ بتائیں کہ وفاق کمیشن پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد کیسے کراتا ہے؟  

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ نظرثانی درخواست کس کے کہنے پر فائل کی گئی؟ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرائے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تمام ایجنسیوں کو موبالائز کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں