86

طیارہ حادثہ،تحقیقات رکوانے اورجوڈیشل کمیشن بنانےکی استدعا

کراچی طیارہ حادثےکی تحقیقات رکوانے اورجوڈیشل کمیشن بنانےکی درخواست کی گئی،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کے جوڈیشل ورک نہ کرنے پرآج کی پیشی فہرست منسوخ کردی گئی،ہائیکورٹ نےدرخواستگزار کےوکیل کو قانونی حوالہ دینے کاحکم دے رکھا تھا۔

تفصیل کے مطابق چیف جسٹس محمد قاسم خان کی عدالت میں ایڈووکیٹ ارسلان رضا نقوی سمیت دیگروکلاءکی درخواست سماعت کے لیےمقررہے،درخواست میں سیکرٹری ہوابازی،ڈائریکٹرسول ایوی ایشن،ڈائریکٹرایئرٹریفک کنٹرول،پی آئی اے،ایئر بلیو،شاہین ایئرلائنز،ایاٹا،پالپا،ایئر کرافٹ انوسٹی گیشن بورڈ سمیت دیگرکو فریق بناتےہوئےموقف اختیارکیاگیا ہےکہ آئین میں تمام شہریوں کےبنیادی حقوق اورزندگی کےتحفظ کی ضمانت دی گئی ہے،پاکستان میں گزشتہ50برسوں میں طیاروں کے20حادثات میں1ہزار سےزائد اموات ہوچکی ہیں۔پی آئی اے طیارہ کیسے تباہ ہوا؟ رپورٹ آگئی

کراچی میں 22 مئی کوطیارہ حادثےمیں بھی97شہری شہید ہوئے،دنیا بھرکی 43 ایئرلائنزمیں کبھی ایسےحادثات پیش نہیں آئے،اتنے بڑے بجٹ کے باوجود پاکستانی ایئرلائنزانتہائی پرانی ہیں،پاکستان میں طیارہ حادثات ایئرلائنز کمپنیوں اورسول ایوی ایشن کی نااہلی کوثابت کرتے ہیں،کورونا وائرس کےباعث پی آئی اے،شاہین ایئرلائنزاورایئربلیوکرایوں کی مد میں بھاری رقوم وصول کررہی ہیں،سول ایوی ایشن کاک پٹ عملےکی مناسب تربیت کرانے میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہے۔

اتھارٹی طیاروں کی وقتا فوقتا دیکھ بھال کرنےکےایس او پیز پر بھی عملد درآمد نہیں کررہی، پاکستان میں اب تک ہونے والےطیارہ حادثات کی ایک بھی رپورٹ منظرعام پر نہیں لائی گئی،کراچی طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنےوالا بورڈ سول ایو ی ایشن اتھارٹی کےزیراثر ہے،ایسے میں غیرجانبدارانہ تحقیقات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔کراچی طیارہ حادثہ، جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست دائر

درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ کراچی طیارہ حادثےکی جلد اورغیرجانبدار تحقیقات کرانے کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانےکاحکم دیا جائے،مزید استدعا کی گئی ہےکہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کےبعد ذمہ داروں کے خلاف فوجداری مقدمات چلانےاورمتاثرہ خاندانوں کومعاوضہ دینے کاحکم بھی دیا جائے،درخواست کےحتمی فیصلےتک کراچی طیارہ حادثہ کی تحقیقات کرنے والے بورڈ کو کام کرنے سےروکاجائے۔

واضح رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا بدقسمت طیارہ لینڈنگ سے چند سیکنڈ قبل گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 24 نیوز کے سینئرڈائریکٹر پروگرامنگ انصارنقوی  سمیت 97 مسافر شہید ہوئے تھے۔رائیونڈ کے علاقے میں خوفناک ٹریفک حادثہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں