160

صرف مارنا ہی نہیں، دھمکی بھی تشدد ہے، شہلا رضا

صوبائی وزیر شہلا رضا کہتی ہیں کہ تشدد صرف مارنا ہی نہیں، دھمکی دینا بھی تشددمیں شامل ہے، سندھ حکومت نے گھریلو تشدد کے خلاف سخت قوانین بنائے ہیں۔

’جیو نیوز‘ کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر شہلا رضا نے کہا کہ ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر نے جو زبان استعمال کی اس کی مذمت کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ رائے سے اختلاف کرنے پر کوئی اتنا گر جائے، میں تصور بھی نہیں کر سکتی، قوانین کا اطلاق مرد اور خاتون سب پر برابر ہوتا ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ زیادتی کی شکار عورت کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے، جس کی عزت لٹتی ہے، کیا اس کی مرضی ہوتی ہے؟

یہ بھی پڑھیئے: سعید غنی اور شہلا رضا کی اضافی سیکیورٹی واپس

انہوں نے کہا کہ کم عمری کی شادی کے قوانین بھی مرد و عورت سب پر لاگو ہیں، 18 سال سے کم عمر میں شادی نہیں ہو سکتی۔

شہلا رضا نے مزید کہا کہ 14 سال کی عمر میں شادی کرنے والی لڑکی کے بچے غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں، 14 سال کی عمر میں لڑکا کمائے گا کیسے؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کی اپنی سمجھ کی حد ہے، وہ اس سے آگے کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتے، بچوں کی تربیت میں اس کے جسم پر اس کی مرضی کا بتایا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں