272

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نواز شریف کی ضمانت منظور

سپریم کورٹ نےسابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر چھ ہفتوں کیلئے ضمانت منظور کرتے ہوئےفوری رہائی کا حکم دے دیا گیا.یہ بھی لازمی پڑھیں:ایف بی آر ملازمین کو اپ گریڈ نہ کرنے پر عدالت کا بڑا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کا فیصلہ سنا دیا،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے،عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ اگر 6 ہفتوں بعد سرنڈر نہ کیا تو گرفتار کیا جائے گا،6 ہفتوں بعد ضمانت ختم ہوجائے گی،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے 8ہفتوں کے لیے ضمانت کی استدعا کی تاہم عدالت نے 6ہفتوں کے لیے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو 50،50لاکھ کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ نواز شریف کےباہر جانے پر پابندی ہوگی وہ اپنا علاج ملک میں ہی کرایں اپنے پسند کے ڈاکٹر سے کرواسکتے ہیں، قبل ازیں عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ثابت کریں کہ نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے؟یہ بھی بتائیں کہ میڈیکل ہسٹری سے نوازشریف کی اب کی صورتحال کیسے مختلف ہے اور صحت کیسے بگڑ رہی ہے؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میاں نوازشریف کے دل میں 7 اسٹنٹ ڈالے جا چکے ہیں،انجائنا کی تکلیف ہیں،جس سے دل کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا پاکستانی ہسپتال اور نوازشریف کے علاج کے قابل نہیں؟ ہم صرف پاکستان کے ہسپتال میں علاج کا حکم دے سکتے ہیں، جس کے بعد عدالت نے طبی بنیادوں پر درخواست کو منظور کرتے ہوئےچھ ہفتوں کا وقت دیا ہے،نواز شریف کی درخواست منظور ہونے پر کارکن رو پڑے سپریم کورٹ کے باہر کارکنوں کا جشن اور شکرانےکےفل اداکیے۔یہ بھی لازمی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا،نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 برس کی سزا سنائی گئی جس پر ان کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں