97

حکومت کی عجیب منطق، اندرون شہر صرف 36 کورونا کیسز پر لاک ڈاؤن

حکومت کی عجیب منطق، شہر کے سات علاقوں کو 14 روز میں 2ہزار کیسز پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا، اندرون شہر صرف 36 کیسز کے ساتھ لاک ڈاؤن میں شامل کر دیا گیا۔

شہر کے لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ علاقوں میں 14 روز کے دوران ساڑھے 16 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے،حکومت کی جانب سے شہر کے سات علاقوں کو کسی منطق اور سائنٹیفک بنیاد کے بغیر ہی لاک ڈاؤن کر دیا گیا، گلبرگ، ماڈل ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، ڈی ایچ اے، گلشن راوی اور اندرون شہر کو لاک ڈاؤن کیا گیا ہے لیکن ان علاقوں میں 14 روز کے دوران کورونا کے 1973 ء کیسز رپورٹ ہوئے لیکن اسی عرصہ کے دوران شہر کے دیگر علاقوں میں ساڑھے 16 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے لیکن ان علاقوں کو لاک ڈاؤن میں شامل نہیں کیا گیا، جن سات علاقوں کو لاک ڈاؤن کیا گیا ان میں کورونا وبا کے دوران مجموعی طور پر 3613 مریض سامنے آئے ہیں لیکن شہر کے لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر ساڑھے 33 ہزار مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔کورونا وائرس :انجیکشن ،موبائل سگنلز کی عدم دستیابی عدالت میں چیلنج

 حکومت کی جانب سے اندرون شہر کو 14 روز میں صرف 36 مریض رپورٹ ہونے کے باوجود لاک ڈاؤن میں شامل کیا گیا ہے، سرکاری ریکارڈ کے مطابق اندرون شہر میں 24 ہزار رہائشی یونٹس میں 75 ہزار خاندان رہائش پذیر ہیں اور تین لاکھ کی آبادی ہے جس میں مجموعی طور پر اب تک صرف 177 کورونا کیسز سامنے آئے لیکن اس کے باوجود لاک ڈاؤن کر دیا گیا لیکن شہر کے دیگر شہروں میں کورونا کیسز کہیں زیادہ ہونے کے باوجود ان کو لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا۔پاکستان کی ٹاپ ٹینس پلیئر سارہ محبوب خان اور والد ٹینس کوچ کورونا کا شکار

دوسری جانب شہرکے مزید7علاقوں میں لگائے گئے سمارٹ لاک ڈاؤن میں  سختی کردی گئی، گلبرگ اور ڈی ایچ اے کے داخلی و خارجی راستوں کو بیرئیرلگا کر بند کردیا گیا،صرف مقامی افراد کو داخل ہونےکی اجازت دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں