111

تباہی کی جنگ سے قبل امریکا اور ایران میں ہندسوں کی جنگ چھڑ گئی

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جاری سخت ترین کشیدگی کے دوران ہندسے غیر معمولی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تباہی کی جنگ سے قبل امریکا اور ایران میں ہندسوں کی جنگ چھڑ گئی ہے، اس جنگ کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ ایران کے 52 اہم مقامات امریکی نشانے پر ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے باون کے عدد کا حوالہ بلاوجہ نہیں تھا بلکہ اس کا ایک پس منظر ہے، ایران میں 1979 میں آنے والے انقلاب کے بعد امریکی سفارت خانے میں ایرانیوں نے گھس کر 52 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ٹرمپ نے اسی جانب اشارہ کر کے کہا کہ ایران کے باون مقامات امریکی میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔

ایرانی ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانے کے بیان پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ٹرمپ پر تنقید

امریکی صدر کے جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی ایک اہم ہندسہ پیش کر دیا ہے، ٹرمپ کے ایرانی ہم منصب نے کہا کہ امریکی صدر ہمیں نہ دھمکائے بلکہ 290 کا عدد یاد کرے۔ ٹرمپ کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ باون نمبر کا حوالہ دینے والوں کو دو سو نوّے کا عدد نہیں بھولنا چاہیے۔

ایرانی صدر کا اشارہ 1988 کے حادثے کی طرف تھا، امریکا نے ایک ایرانی مسافر بردار ہوائی جہاز کو مار گرایا تھا جس میں 290 لوگ سوار تھے، جو امریکی حملے سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس کے رد عمل میں ایران نے عراق کے ساتھ 8 سالہ جنگ روک دی تھی۔

خیال رہے کہ آج انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایرانی ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانے کے بیان پر امریکی صدر ٹرمپ پر تنقید کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں