83

بینکنگ عدالتوں میں کام متاثر،وجہ کیا ہے؟

بینکنگ  عدالتوں میں چار ماہ سے جج مقرر نہ ہو سکے،کروڑوں روپے  کی ریکوری کے دعوے بری طرح متاثر ہوگئے،سات عدالتوں کا بوجھ تین ججزپرڈال دیا گیا۔

جی پی او  لاہور کے نزدیک  بینکنگ  کی سات عدالتیں کام کر رہی ہیں جہاں پنجاب بھر کے بنکوں کی طرف سےنادہندہ افراد کے خلاف ریکوری کےدعوے کیےجاتے ہیں،ان عدالتوں میں لاک ڈائون کی وجہ سے کام رکا ہوا تھا، دوسری جانب چار ججزکےتبا دلے بھی کردیئےگئےجس کی وجہ عدالتی کام بری طرح متاثرہوا ہے۔ایک اور معروف گلوکار کورونا وائرس میں مبتلا

عدالتوں نے جن نادہندہ کمپنیوں کی نیلامی کےاحکامات جاری کیےاورنیلامی کی تاریخیں مقرر کردی تھیں، مگرججزکے نہ ہونے کی وجہ سے نیلامی کی تاریخیں نکل گئیں،دیواروں پر نیلامی کے اشتہار پرانےہوگئے،وکلا اورکورٹ اکشنروں کا کہنا ہےکہ چار جج نہ ہونے سےمالیاتی اداروں کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔

بینکنگ کی سات عدالتوں میں ججوں کی تعداد کوپورا رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نادہندہ افراد سے ریکوری کرا کربنکوں کا نقصان پورا کرایا جائے۔آبادی کا پھلاؤ، شہر میں قبرستان کم پڑ گئے

دوسری جانب  پنجاب  سروس ٹربیونل میں گزشتہ تین ماہ سے دو جوڈیشل ممبرز کی سیٹیں خالی ہیں۔ سرکاری ملازمین ممبرز کی عدم تعیناتی کو بروقت انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ  قرار دے رہے ییں۔ ذرائع کے مطابق دو ممبرز کی کمی باعث سرکاری ملازمین کی زیر التواء اپیلوں کی تعداد پونے چار ہزار سے تجاوز کرچکی ہےپی ایس ٹی کے ممبرز کی عدم تعیناتی کے باعث زیر التواء اپیلوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے لگا۔ لاہور ہائیکورٹ کیجانب سے حکومت کو نام بھجوانے کے باوجود ممبرز کی تعیناتیوں کی منظوری التواء کا شکار ہے۔ہائیکورٹ نے پنجاب سرورس ٹربیونل میں تعیناتی کے لئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ریحان بشیر اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحفیظ کے نام پنجاب حکومت کو بھجوا رکھے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ نے دونوں سیشن ججز کے نام منظوری کے لئے گورنر کو بھجوا رکھے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں