100

آبادی کا پھلاؤ، شہر میں قبرستان کم پڑ گئے

صوبائی دارالحکومت میں شہریوں کے لیے اپنے  پیاروں کی تدفین مشکل ہو گئی۔ شہر خموشاں میں تدفین کا ریٹ دس ہزار تک پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں شہریوں کے لیے اپنے پیاروں کی تدفین مشکل ہو گئی۔ شہر خموشاں میں تدفین کا ریٹ دس ہزار تک پہنچ گیا۔  نجی سوسائٹیز میں تدفین  کے لئے تو من مانے پیسے وصول کئے ہی جاتے ہیں لیکن شہر کے سرکاری قبرستانوں کے حالات بھی کچھ اچھے نہیں رہے۔ایک اور معروف گلوکار کورونا وائرس میں مبتلا

 میانی صاحب کی بات کریں تو وہاں قبرستان کمیٹی کی جانب سے برائے کچا کھاتہ 250 پکا کھاتہ ایک ہزار جبکہ 9 ہزار 500 روپے گورکن کے اخراجات معہ میٹریل مقرر ہے۔ پنجاب اسمبلی میں جمع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ قبرستان کاہنہ میں قبر کے لیے مجوعی طور پر دس ہزار ادا کرنا ہوتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت تدفین کے معاملات کوآسان بنانے پر توجہ دے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر کی آبادی کے لحاظ سے سرکاری سطح پر مزید قبرستانوں کیلئے جگہ مختص کی جائےکورونا کیسز بڑھنے سے ہسپتالوں میں جکہ کم پڑنے لگی

میانی صاحب قبرستان انتظامیہ نے قبرستان کو کمائی کا ذریعہ بنالیا، میانی صاحب قبرستان انتظامیہ کی آشیربادسے قبرستان کی حدود اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم ہوگئیں، کروڑوں کی لاگت سےتعمیر کی گئی دیواروں اور جنگلوں کو مسمار کرکے پھولوں کی دکانیں بنوادی گئیں۔  دکانداروں کا کہنا تھا کہ 25 سو ماہوار کرایہ میانی صاحب قبرستان انتظامیہ کو ادا کرتے ہیں، ایک سال کے کنٹریکٹ پر دکان لگانے کی اجازت ملی ہے۔ریلوے خسارہ میں ریکارڈ اضافہ

میانی صاحب قبرستان میں ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی اجازت سے دکانیں لگائی گئیں، قبرستان کی حدود میں لگی دکانوں سے کرایہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ فٹ پاتھوں والے دکاندارکرایہ دار نہیں۔

ایک طرف کروڑوں کی مالیت سے میانی صاحب قبرستان کی دیواروں اور جنگلوں کی تعمیر کی گئی جبکہ دوسری جانب قبرستان انتظامیہ نے کمائی کی لالچ میں دیواروں اور جنگلوں کو توڑ کر پھولوں کی دکانیں بنوا دی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں