40

آئی جی پنجاب کا لاہور سیالکوٹ موٹروے کی سکیورٹی کیلئے اہم فیصلہ

  گجرپورہ میں بچوں کے سامنے خاتون سے زیادتی کے واقعہ نے حکام کی آنکھیں کھول دیں، آئی جی پنجاب کا لاہور سیالکوٹ موٹروے کی سکیورٹی کیلئے اہم فیصلہ، تین شفٹوں میں 24 گھنٹے ہائی وے پٹرولنگ پولیس اور ایس پی یو کی ٹیمیں گشت کریں گی، 250 جوان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر گشت کے لیے موجود ہونگے۔

چھ ماہ قبل لاہور سیالکوٹ موٹروے کا افتتاح کیا گیا تھا لیکن کسی بھی ادارے کو ٹریفک کنٹرول اور سکیورٹی ڈیوٹی نہیں  سونپی گئی، حکومتی غفلت کی وجہ سے موٹروے پر خاتون کے ساتھ زیادتی اور ڈکیتی کا شرمناک واقعہ پیش آیا، جس کے بعد اب نئے تعینات ہونے والے آئی جی انعام غنی مشترکہ ٹیموں کو لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گشت کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ  250 اہلکار پٹرولنگ اور سکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے اور شہریوں کو دوران سفر حفاظت فراہم کی جائے ۔شوگر سبسڈی سکینڈل کی تحقیقات کیلئے نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل

 ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ 91 کلومیٹر لمبی موٹروے پر 7 انٹرچینج اور اڑھائی سو پولیس اہلکارتعینات کیے گئے ہیں، موٹروے پولیس کیجانب سے فرائض سنبھالنے تک پنجاب پولیس سکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دے گی۔

ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال اور ڈی آئی جی بلال صدیق کمیانہ نے موٹروے ٹول پلازہ کا دورہ کیا، اہلکاروں کی تعیناتی اور گشت کے پلان کو حتمی شکل دی گئی۔

واضح رہےکہ  9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا، اطلاعات کے مطابق دو افراد نے موٹرے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔موٹروے زیادتی واقعہ، ڈولفن فورس کا وہ اہلکار جو اس جگہ پرپہلے پہنچا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں