29

موٹروے گجر پورہ اجتماعی زیادتی کیس میں اہم پیشرفت

 گجر پورہ اجتماعی زیادتی کیس میں اہم پیشرفت، گھناؤنے جرم کے مرتکب بے نقاب کرنے کیلئے باپ بیٹا سمیت 12  افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کی تیاری، تفتیشی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد جمع کرلئے، آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی تک پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔

 گزشتہ روز تھانہ گجر پورہ کی حدود میں سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، ذرائع کے مطابق  خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی پر لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ راستے میں پٹرول ختم ہونے پر گاڑی رنگ روڈ پر رو ک لی۔ خاتون ثنا پریشانی میں گاڑی سے باہر نکلی اور مدد کیلئے فون کرنے میں مصروف تھی کہ 2 ڈاکو پہنچ گئے، ڈاکوؤں نے خاتون پر تشدد کیا اور پھر زبردستی قریبی کرول جنگل میں لے گئے اور بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، ڈاکو ایک لاکھ روپے نقدی، طلائی زیورات و دیگر اشیا بھی لوٹ کر فرار ہوگئے۔زیادتی کے بڑھتے واقعات المیہ ہیں: منہاج القرآن ویمن لیگ

 موٹروے پر خاتون سے مبینہ زیادتی اور ڈکیتی کا آئی جی پنجاب انعام غنی نے نوٹس لے لیا۔آئی جی پنجاب انعام غنی نے گجر پورہ واقعہ کی تفتیش اور ملزموں کی گرفتاری کیلئے 20 ٹیمیں تشکیل دیدیں, جو مختلف زاویوں سے افسوسناک واقعہ کی تحقیقات میں مصروف ہیں، ایس پی سی آئی اے اور ڈویژنل ایس پی کی سربراہی میں دو الگ الگ ٹیمیں بھی متحرک ہیں،پولیس نے گجرپورہ  زیادتی کیس میں 12 مشتبہ افرادکو گرفتار کرلیا، جن میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں، ٹیموں نے  جائے وقوعہ سے ڈی این اے سمیت دیگر اہم شواہد جمع کرلئے،  کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی، جیو فینسنگ بھی کرائی گئی۔موٹر وے خاتون زیادتی کیس، کھوجیوں کو شواہد مل گئے

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے  بھی افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی،وزیراعلیٰ پنجاب نے ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاتون کو ہرممکن انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں