14

مویشی منڈیاں 15 جولائی سے فعال کرنے کا فیصلہ

 چیف کارپوریشن آفیسر ایم سی کی زیر صدارت مویشی منڈیوں کے حوالے سے اجلاس، مویشی منڈیوں کو 15 جولائی سے فعال کرنے کا فیصلہ، محکمہ صحت کی ایڈوائزری کے مطابق گیارہ مقامات پر منڈیوں کے قیام کا ٹاسک ایم او ریگولیشن اور ایم او انفراسٹرکچر کو تفویض کر دیا گیا۔

ٹاؤن ہال میں چیف کارپوریشن آفیسر سید علی عباس بخاری کی زیر صدارت اجلاس میں محکمہ صحت کی ہیلتھ ایڈوائزری کی روشنی میں عارضی مویشی منڈیوں کے قیام کے مقامات کا جائزہ لیا گیا، 15 جولائی تک مویشی منڈیوں کو فعال کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، شہر کے اطراف میں آبادی سے مناسب فاصلے پر 11 مویشی منڈیوں کے قیام کیلئے شعبہ ریگولیشن اور شعبہ انفراسٹرکچر کو ٹاسک تفویض کر دیا گیا، مزید تین مقامات پر منڈیاں لگانے کے حوالے سے سے عارضی منڈیوں کی نشاندہی ازسر نو کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سٹیج ڈراموں پر پابندی ختم، حکومت کا بڑا فیصلہ!

مویشی منڈیوں کے حوالے سے پیپر ورکنگ پنجاب حکومت کو ارسال کردی گئی، مویشی منڈیوں کوروناوائرس ایس او پیز کو عملدرآمد کرانے کا ٹاسک زونل افسران کو سونپ دیا گیا۔

چیف کارپوریشن آفیسر سید علی عباس بخاری نے کہا ہے کہ مویشی منڈیوں کے مقامات کو باقاعدگی سے ڈس انفیکٹ کیا جائے گا، شہری بچوں اور بزرگوں کو جانوروں کی خرید و فروخت کیلئے منڈیوں میں نہ لائیں, منڈیوں میں میڈیکل کیمپس اور لائیوسٹاک ڈیسک کے قیام، پبلک ٹوائلٹس، پانی کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گا،ٹینٹس سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، بیوپاریوں سے جانوروں کی کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔نیوز نائٹ، 7 جولائی 2020

اجلاس میں ایم او ریگولیشن زبیر وٹو، ایم او انفراسٹرکچر انور جاوید، ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ انکوائری امین اکبر چوپڑا سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق نشترزون کے زیرِ کنٹرول شہر کی سب سے بڑی منڈی ایل ڈی اے سٹی میں لگے گی جو 6 ہزار 3 سو کنال اراضی پر مشتمل ہوگی، جہاں سات لاکھ سے زائد جانوروں کی خریدوفروخت ہوسکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں