108

“کوئی وکیل پیش نہیں ہوتا تو نہ ہو، عدالتیں اپنا کام کرتی رہیں گی”

اگر کوئی وکیل پیش نہیں ہونا چاہتا تو اس کی مرضی عدالتیں اپنا کام کرتی رہیں گی۔ ہڑتال پرعملدرآمدکے لیے آنے والے بار عہدیداروں کو جسٹس سید مظاہرعلی اکبرنقوی نے صاف جواب دے دیا۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ آپ پڑھے لکھے لوگ ہیں، حق بنتا ہے پی آئی سی جا کر پھول پیش کریں۔ اچھے رویہ اور اچھے اخلاق سے معاملات بہتر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب وکلا نے معزز جج سےعدم پیروی پر کیسز خارج نہ کیے جانے کی استدعا کر دی۔

تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ میں وکلاء کی گرفتاریوں کے خلاف ہڑتال کا معاملہ نیا موڑ اختیار کر گیا۔ بارعہدیدار ہڑتال پرعملدرآمدکے لیے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی عدالت پہنچ گئے۔ بار کی جانب سے جسٹس سید مظاہرعلی اکبر نقوی سے استدعا کی گئی کہ کہ آج وکلا نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ عدم پیروی پر کیسز خارج نہ کیے جائیں۔

فاضل جج کا کہنا تھا کہ آپ پڑ ھے لکھے لوگ ہیں حق بنتا ہے پی آئی سی جا کر پھول پیش کریں۔ وکلا پڑھے لکھے ہونے کا اچھا تاثر دیں۔ اچھے اخلاق اور رویے سے معاملات بہتر ہوتے ہیں۔ جسٹس سید مظاہرعلی اکبر نقوی نے کہا کہ اگر کوئی وکیل عدالت پیش نہیں ہوتا تو اس کی مرضی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں