11

نیب کیجانب سے نواز شریف کیخلاف پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ

سعود بٹ: نیب کی جانب سے نواز شریف کے خلاف پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ  ، بطور سابق وزیر خزانہ اور سابق وزیراعظم کے دور میں چوہدری شوگر ملز کے شیئر ہولڈنگ اور منی لانڈرنگ کا انکشاف۔مزید خبریں:لاہور ہائیکورٹ کا آلودگی پیدا کرنیوالی فیکٹریوں کیخلاف آپریشن کرنیکا حکم

49نیب رپورٹ کے مطابق چوہدری شوگر ملز میں 1992 سے 2016 تک 2 ارب روپے سے زائد مالیت کی انویسٹیمنٹ کی گئی جسکا زرائع نہیں دیا گیا۔ نواز شریف نے 1992 میں 4 کڑوڑ 33 لاکھ کے شیئرز مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز و دیگر کے نام منتقل کیئے جس کے زرائع آمدن فراہم نہ کر سکے۔ بیرون ملک آف شور کمپنی کے سے 1992 میں1 کڑوڑ 55 لاکھ ڈالر کا قرض کی آف شور کمپنی سے حاصل کیا، نوازشریف نے جس کمپنی سے قرض لیا اس آف شور کمپنی کا اصل مالک ظاہر نہیں کیا گیا۔

نوازشریف نے یوسف عباس اور مریم نواز کی شراکت داری سے 410 ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ ملزمان نے جعلی گیارہ ملین کے شیئرز غیر ملکی شخص نصیر عبداللہ کو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا۔

  نیب رپورٹ کے مطابق غیر ملکی کو ٹرانسفر کئے جانیوالے شیئرز درحقیقت نوازشریف کو 2014 میں واپس کر دئیے گئے تھے، چوہدری شوگر مل کے آغاز کے لئے شریف فیملی نے اپنی ہی 9 کمپنیوں سے قرض لیا جس کی مالیت 20کروڑ 95 لاکھ ہے۔           

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں