43

آئی سی سی اجلاس، پی سی بی غیرملکی سیکورٹی معاہدے کی درخواست دے گا

لندن میں پیر سے آئی سی سی کا سالانہ اجلاس شروع ہورہا ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے پاس یہ تجویز لے کر جارہا ہے کہ پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے ایک بار پھر غیرملکی سیکورٹی کمپنی سے معاہدہ کرایا جائے اور کمپنی کو سالانہ معاوضہ آئی سی سی ادا کرے۔

دو سال پہلے آئی سی سی کی ہدایت پر پی سی بی نے برطانیہ کی کمپنی سے دوسال کا معاہدہ کیا تھا، یہ معاہدہ ختم ہونے والا ہے۔ آئی سی سی غیر ملکی سیکورٹی کمپنی کو سالانہ 14لاکھ ڈالرز ادا کرتا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی کمپنی کو انگلش بورڈ کے ڈائریکٹر سیکورٹی رگ ڈگسن چلاتے ہیں اور یہ کمپنی کرکٹرز کی ایسوسی ایشن فیکا سے منظور شدہ ہے۔

اسی کمپنی کی رپورٹ پر پاکستان میں ورلڈ الیون،سری لنکا اور ویسٹ انڈیز نے سیریز کھیلی تھی جبکہ پاکستان سپر لیگ فور کے دوران غیر ملکی کمپنی کی ایڈوائس پر38غیر ملکی کرکٹرز کراچی آئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان مانی اور وسیم خان اجلاس میں یہ تجویز لے کر جارہے ہیں کہ غیر ملکی سیکورٹی کمپنی سے 3سالہ معاہدہ کرایا جائے اور اس کمپنی کو سالانہ معاوضہ آئی سی سی ادا کرے تاکہ غیر ملکی ٹیموں کی واپسی کی راہ ہموار ہو۔

شہریار خان کے دور میں پی سی بی نے اس کمپنی سے پہلا معاہدہ آئی سی سی کی ایڈوائس پر کیا تھا۔

اگلے دوسالوں میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ دونوں ملکوں کے سربراہ آئی سی سی سالانہ میٹنگ کے بعد لاہور آرہے ہیں۔

پی سی بی چاہتا ہے کہ سیکورٹی کمپنی کی موجودگی میں پاکستان کے حوالے سے غیر ملکی ٹیموں کو رائے قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ فیکا سے منظور شدہ کمپنی غیر ملکی سفارت خانوں سے بھی رابطے میں رہتی ہے اور سیکورٹی پلان بنانے میں مدد دیتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سری لنکا کرکٹ بورڈ کے حکام آئی سی سی میٹنگ میں پاکستان کو یہ بتائیں گے کہ ان کا سیکورٹی وفد کب لاہور اور کراچی آئے گا۔ سری لنکا نے ابھی پاکستان میں ٹیسٹ کھیلنے کے حوالے سے کوئی حتمی جواب نہیں دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ملک میں غیر ملکی ٹیموں کو لانے کے لئے بھرپور کوششیں کررہا ہے،اور پر امید ہے کہ سری لنکا ستمبر ،اکتوبر میں دونوں ٹیسٹ پاکستان میں کھیلے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں