54

پولیس ہسپتال محکمہ صحت اور محکمہ داخلہ کے درمیان شٹل کاک بن گیا

لاہور پولیس کا ہسپتال دونوں محکموں کے درمیان شٹل کاک بن کر رہ گیا، دو سال گزرنے کے باوجود کوئی بھی محکمہ ہسپتال کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، محکمہ صحت نے ہسپتال میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف تعینات کردیئے مگر فنڈز کی فراہمی محکمہ داخلہ کی ذمہ داری ہے۔مزید خبریں:فائرنگ سے زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل ہسپتال میں دم توڑ گیا

دو سال قبل لاہور پولیس کی کوشش سے پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں واحد ہسپتال کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں محکمہ صحت کی جانب سے ایم ایس سمیت دیگر ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی تعینات کیا گیا تاہم لاہور پولیس محکمہ داخلہ کے زیر انتظام ہونے کی وجہ سے ہسپتال کے فنڈز بھی محکمہ داخلہ کے ذمے ڈال دیئے گئے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے دو سال سے پولیس ہسپتال کو فنڈز جاری نہیں کیے۔

  محکمہ داخلہ کی جانب سے فنڈز کیلئے محکمہ صحت سے رجوع کرنے کا کہا جارہا ہے، محکمہ صحت ہسپتال صرف پولیس کے زیر استعمال ہونے کی وجہ سے فنڈز نہیں دےرہا۔ دومحکموں کی جنگ میں ہسپتال میں دو سال قبل لائی گئی مہنگی مشینری بھی خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہو رہا ہے۔ ہسپتال میں جان بچانے والی ادویات ہیں نہ ہی سرجری کیلئےکوئی آلات۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں