36

داتا دربار خودکش حملہ: ذمہ داروں کا تاحال تعین نہ ہوسکا

لاہور میں داتا دربار خود کش حملے کے ذمے داروں کا تعین اب تک نہیں ہوسکا، مبینہ خود کش حملہ آور کے ملنے والے ہاتھ کی انگلیوں کے نشانات نادرا کو بھجوا دیئے گئے۔

دوسری جانب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہونے والے پولیس ملازم صدام کی نمازِجنازہ پولیس لائنز میں ادا کردی گئی۔

داتا دربار کے باہر بدھ کے روز ہونےوالےخود کش حملے کی تحقیقات جاری ہیں، سی ٹی ڈی حکام اور دیگر تفتیشی ادارےشواہد جمع کر کے کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں، دھماکے کا مقام تاحال محفوظ رکھا گیا ہے تاہم پولیس کی گاڑی موقع سے ہٹا دی گئی ہے۔

مبینہ دہشت گرد کے جسمانی اعضابھی جمع کر لئے گئے، فارنزک لیب حکام نے مبینہ حملہ آور کے فنگر پرنٹس شناخت کے لئے سی ٹی ڈی حکام کے حوالے کردیئے، جو نادرا کو بھجوادیئے گئے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے شبہ ظاہر کر رہےہیں کہ دہشت گرد نے دھماکے سے چند منٹ قبل خود کش جیکٹ کسی جگہ پررُک کر پہنی، وہ تحقیقات کررہےہیں کہ اس مقصدکےلئےخودکش حملہ آورنے کونسا نزدیکی ہوٹل یا سرائے استعمال کیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان نے عزم ظاہر کیاہے کہ جلد ذمے داروں تک پہنچ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں