72

سستے رمضان بازار شہریوں کیلئے اذیت بازار بن گئے

سستے رمضان بازار شہریوں کیلئے اذیت بازاربن گئے، چینی کے حصول کیلئے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ بیٹھنے کے بھی ناقص انتظامات پر شہری پھٹ پڑے۔مزید خبریں:شہرِ رمضان، خصوصی ٹرانسمیشن سٹی فورٹی نیوز

سستے رمضان بازاروں میں قد آور فلیکسز پر چینی 2 کلو فی کس دینے کی بھرپوراشتہاری مہم چلائی گئی لیکن اس کے برعکس سخت گرمی میں چینی کے حصول کیلئے لمبی قطاریں لگ گئیں اور چینی صرف ایک کلو فی کس ملنے پر شہریوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا، رمضان بازاروں میں ایک ہی چھت تلے فیئر پرائس شاپس اور سٹالز پر اشیاء خورونوش کی قیمتوں واضح فرق ہے، فیئر پرائس شاپ پر پیاز کا ریٹ 23 جبکہ ساتھ اوپن سٹالز پر 45 روپے کلو ہے، قیمتوں میں فی کلو فرق 22 روپے ہے, فیئر پرائس شاپس پر ٹماٹر 21 جبکہ ساتھ والے سٹال پر 45 روپے فی کلوفروخت ہوتے رہے۔

فیئرپرائس شاپس پر آلو 13 جبکہ دیگر سٹالز سے آلوغائب ہیں، اسی طرح لیموں 149 جبکہ سٹالز پر 295 روپے فی کلو قیمت مقرر ہے، فیئر پرائس شاپس پر لہسن دیسی 80 روپے فی کلو جبکہ سٹالز پر 95 روپے فی کلو دستیاب رہے,  فیئر پرائس شاپس کی کم قیمتوں نے سٹالز بھی ویران کردیئے، سبزی و پھل فروش کہتے ہیں منڈی کے بھاؤ سبزیاں و پھل فروخت کررہے ہیں لیکن شہریوں کاجھکاؤ فیئرپرائس شاپس پر ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے ٹینٹس تو لگائے لیکن شہریوں کیلئے انتظار گاہ نہ ہونے کے برابر ہے، جوشہریوں کیلئے کسی اذیت سے کم نہیں۔ رمضان بازاروں میں سینئر سٹیزن کاؤنٹر بھی نہیں بنائے گئے جس سے بزرگ شہری کافی مایوس دکھائی دیئے۔مزید خبریں:رمضان المبارک کی آمد، کھجوروں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

  شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کاسونامی آ چکا، قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے شہر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ہیں اور نہ ہی کوئی عملہ، سبزیوں اور پھلوں کیساتھ ساتھ گوشت اور برائلرکی قیمت میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کیسی تبدیلی ہے کہ جس میں عام شہریوں کو ماہ رمضان میں بھی ریلیف نہیں مل رہا، گزشتہ سال کی نسبت اس سال رمضان میں مہنگائی کی شرح میں7 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے, ماہرین کے مطابق اِس کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدرمیں کمی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں