43

ڈبل شاہ اور ڈبل دھمال کے بعد ڈبل ڈگریوں کی لوٹ مار منظر عام پر

کامسیٹس یونیورسٹی میں ڈبل ڈگری پروگرام پر پاپندی کے باوجود طلبا سے فیسیں وصول کرنے کا انکشاف ، ڈبل ڈگری میں رجسٹرڈ طلبا سے 5 کروڑ 40 لاکھ روپے فیسوں کی مد میں وصول کیے جانے پر ایچ ای سی نے انکوائری شروع کردی۔مزید خبریں:ٹی ٹونٹی لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ، یونائیٹڈ سٹارز نے میدان مار لیا

کامسیٹس لاہور کیمپس کا ڈبل ڈگری پروگرام غیرقانونی ہونے پر ہائرایجوکیشن کمیشن نے بند کرادیا تھا۔ کمیشن کی جانب سے 2015 میں اس پروگرام پر پاپندی عائد کردی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاپندی کے باوجود کامسیٹس لاہور کی انتظامیہ نے طلبا کو لنکاسٹر یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں فیسیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

ڈبل ڈگری پروگرام میں رجسٹرڈ طلباء کی جانب سے لنکاسٹر یونیورسٹی کو آن لائن فیسیں جمع کرانے کا ریکارڈ سٹی فورٹی ٹو نے حاصل کرلیا ہے۔ کروڑوں روپے لنکاسٹریونیورسٹی کو ڈائریکٹ منتقل کرنے پر ایچ ای سی نے انکوائری شروع کردی ہے۔

مزید خبریں:لیسکو کی ایک اور ناکامی سامنے آگئی

ایچ ای سی کے مطابق کامسیٹس کے طلباء کی فیسیں ڈائریکٹ برطانیہ منتقل کرنا منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کامسیٹس لاہور کو 7 روز میں ڈبل ڈگری پروگرام کی تحریری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ کامسیٹس نےلنکاسٹر یونیورسٹی برطانیہ کے ساتھ 2010 میں ڈبل ڈگری کا اجراء کیا تھا، کامسیٹس نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی منظوری کے بغیر ڈبل ڈگری پروگرام شروع کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں