47

یوم پاکستان بھرپور انداز سے منانے کی تیاریاں

وفاقی دارلحکومت میں یوم پاکستان کی تقریب کی تیاریاں عروج پر ہیں، ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اس موقع پر ہونے والی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہونگے ۔ اُن کی اہلیہ بھی اس موقع پر اُن کے ہمراہ ہوں گی۔ ملائیشیا کے اہم کاروباری اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ سطحی حکام کا وفد بھی پاکستان آرہا ہے دورے کے دوران مفاہمتوں کی کئی یاداشتوں پر دستخط بھی ہوں گے۔ مقصدیت کے اعتبار سے یہ گہما گہمی اپنی جگہ پر لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیاں بھی اور سیاستدانوں کے خلاف الزامات کے مقدمات کی کاروائیاں بھی۔ وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے 28 مارچ کو ایک اہم اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا گیا ہے اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے انعقاد اور دیگر متعلقہ اُمور کی تمام ذمہ داری مخدوم شاہ محمود قریشی کے سپرد کی ہے جنہوں نے راہنماؤں کو خطوط بھی تحریر کردیئے ہیں تاہم بعض حکومتی شخصیات اور اپوزیشن کے راہنماؤں کے لیے یہ پہلو بھی قابلِ فکر ہوگا کہ آخر یہ ذمہ داری کسی دوسری متعلقہ حکومتی شخصیت جو سیاسی اور انتظامی معاملات میں شامل ہے اس کی جگہ وزیر خارجہ کو دینے میں کیا حکمت عملی پوشیدہ ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب پاک بھارت کشیدہ تعلقات سمیت متعدد خارجی اُمور میں وزیر خارجہ بہت زیادہ مصروف ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس صورتحال پر سب سے پہلے خورشید شاہ نے استفسار کیا کہ ، کیا شاہ محمود قریشی ڈی فیکٹو وزیراعظم ہیں؟ ۔ اس اجلاس کے حوالے سے اپوزیشن کے بعض سیاستدان مختلف حوالوں سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کررہے ہیں ۔ جہاں تک عدالتی کاروائی کا معاملہ ہے تو میاں نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فریقین سے جواب طلبی کے لیے 26مارچ کی تاریخ دی گئی ہے جبکہ آصف علی زرداری کے جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت پر زرداری اور فریال تالپور کی بینکنگ کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی گئی ہے تاہم اُن کو 10دن کی حفاظتی ضمانت مل گئی ہے۔ ماضی میں تین مرتبہ وزیر اعظم ہائوس کے مکین بننے والے میاں نواز شریف ان دنوں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے اسیر ہیں جہاں وہ بیماری کے عالم میں خاصی بے بسی اور بیچارگی کی شب و روز گزار رہے ہیں ان کے ملاقاتیوں جن کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے ان کا کہنا ہے کہ میاں صاحب اپنے قریبی رفقاء پر خاصے برہم ہیں انہوں ان ساتھیوں کے جنہوں نے انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان کی رہائی اور بیرون ملک بھجوانے کے لئے معاملات کرنے میں مصروف ہیں اور بہت جلد وہ جیل سے ہی نہیں ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن رہائی تو دور کی بات اس حوالے سے جو امکانات پیدا ہوئے تھے وہ بھی معدوم ہوتے نظرآ رہے ہیں میاں صاحب ان مسلم لیگی رہنمائوں سے بھی سخت نالاں ہیں جنہیں مستحق اور موزوں کارکنوں پر فوقیت دیکر انہیں قومی اسمبلی اور سینٹ کے ٹکٹ دیئے تھے اور اس مشکل مرحلے میں انہیں ہدایت کی تھی کہ ملک بھر بالخصوص پنجاب اور اسلام آباد میں ان کی رہائی کے لئے موثر احتجاجی مہم چلائی جائے لیکن اب وہ لوگ کہیں نظر نہیں آرہے۔ سپریم کورٹ اور نیب کی عدالت میں پیشی کے موقع پر خودنمائی کے لئے ان کے ہمراہ ٹی وی کیمروں کے سامنے آنے والے اب نجانے کہاں چھپ گئے ہیں۔ لوگوں کی بے رخی اور خود غرضی نے ان کی بیماری میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے بعض نئے کیسز بھی کھل سکتے ہیں اور بعض کیسوں کا فیصلہ بھی آسکتا ہے جو ان کے خلاف بھی جاسکتا ہے۔ ڈیل اور ڈھیل کی باتیں غلط نہیں تھیں ان میں صداقت ضرور تھی لیکن۔ اس کے لئے شرائط اتنی کڑی ہیں جنہیں پورا کرنے سے صرف میاں نواز شریف ہی نہیں بلکہ ان کی سیاسی خواہشوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اور ان سے وابستگی رکھنے والوں کا سیاسی مستقبل بھی تاریک ہوجائے گا اگریہ بات صرف غیر سیاسی جرمانے کی ہوتی تو شاید وہ بد دلی سے ادا کرنے کو بھی تیار ہوجاتے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی ریلیف لیتے ہیں تو سیاسی مستقبل تاریک ہوتا ہے اگر وہ مزید ڈٹ جاتے ہیں تو جیل کی تنہائی اور صعوبتیں طویل ہوجائیں گی۔۔۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کے لیٹر پیڈ پر ایک مریم نواز کے دستخطوں سے جاری ایک خط منظر عام پر آیا تھا جو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور کو لکھا گیا تھا۔اس خط کے بارے میں پنجاب حکومت کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ یہ خط سوشل میڈیا پر خود انہوں نے ہی وائرل کیا تھا تاہم جب اُنہیں اندازہ ہوا کہ یہ خط جعلی ہے تو اُسے سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا۔ مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کے لیٹر پیڈ پر اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور پال جونز کو لکھے جانے والے خط کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی بلاتاخیر اس کی تردید اور وضاحت کرتے ہوئے اسے ’’فیک‘‘ قرار دیا تھا پھر امریکی سفارتخانے نے بھی ایسے ہی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو اُنہیں مریم نواز کی جانب سے کوئی ایسا خط ملا ہے اور نہ اس تمام عرصے میں اُن کی جانب سے امریکی سفارتخانے سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جعلی خط لکھنے والوں کے مقاصد نجانے کیا تھے لیکن اس خط میں جو کچھ لکھا گیا تھا وہ مسلم لیگ (ن) کے بیانیے سے خاصی مطابقت رکھتا تھا ۔ خط میں امریکی ناظم الامور سے درخواست کی گئی تھی کہ ان کے (مریم نواز) والد جھوٹے الزامات میں جیل میں قید ہیں انہیں علاج معالجے کی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جا رہیں جس باعث ان کی طبیعت مسلسل خراب ہو رہی۔ عدالتوں کو ان کے بارے میں حقائق نہیں بتائے جا رہے اس لئے عدالتیں بھی ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پارہیں۔ خط میں درخواست کی گئی ہے کہ تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف کے دور میں پاکستان امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے اور اس صورتحال میں جب وہ ایک مشکل وقت میں ہم بجا طور پر امریکہ سے مدد اور اس معاملے میں مداخلت کا تقاضہ کرتے ہیں اور آپ سے (ناظم الامور) سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال میں ہماری مدد کریں یہ خط سات مارچ 2014 کو لکھا گیا تھا جو ایک ہفتے بعد منظر عام پر آیا۔ میاں نواز شریف جس صورتحال سے دو چار ہیں ایسا خط ان کی ہدایت بھی ہو سکتا ہے اور ان کی صاحبزادی کی خواہش بھی ویسے بھی اس خط کی تحریر میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کی جو صورتحال ہے وہ بیا مند ہے جس کا اظہار وہ ہر سطح پر کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہونا تھا وہ خاصی حد تک ہو چکا ہے اور جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا لیکن آصف علی زرداری کا امتحان اور آزمائش شروع ہونے والی ہے جس کی تمام تیاریاں مکمل ہیں البتہ آصف زرداری کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح وہ کم از کم 4 اپریل تک تو حالات کی دست برد سے محفوظ ہیں کیونکہ 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی ہے اور حالات کے پیش نظر وہ اس مرتبہ برسی کے موقع پر اپنی سیاسی بقا اور خود سے وابستہ افراد کو جیلوں سے باہر رکھنے کے لئے بھر پور طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں جس کی تیاریاں ابھی سے شروع ہو چکی ہیں اس سے قبل سندھ کی ممتاز سیاسی طور پر انتہائی طاقتور شخصیت سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپے اور ان کی گرفتاری کے ذریعے سندھ میں ردعمل کی صورتحال کو ’’ٹیسٹ‘‘ کر لیا گیا تھا اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس مرتبہ طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے جیالے احتجاجی ریلی کے ساتھ گڑھی خدا بخش پہنچیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں