39

کشمیریوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی مشکل کا شکار

پلوامہ حملے کے بعد کشمیری نوجوانوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی کی اپنی جان پر بن گئی، انہیں سوشل میڈیا پر بھی بدتمیزی اور بدزبانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

26 سالہ ساگریکا کسو صحافی ہیں جن کا تعلق جموں کے پنڈت گھرانے سے ہے۔

پلوامہ میں ہوئے حملے کے بعد جب اتراکھنڈ، راجستھان اور ہریانہ میں انتہا پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے کشمیری مسلمان نئی دہلی پہنچنا شروع ہوئے تو ساگریکا نے ان کی بھرپور مدد کی تھی۔

کشمیریوں کی مدد کرنے پر خاتون صحافی ساگریکا کو بے ہودہ جملے اور تنقید بھی سہنا پڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں