120

کاروبار میں کمی ،ہزاروں افراد بے روزگار ہوچکے

اسلا م آباد(انصار عباسی)کاروبار میں کمی کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔بزنس میں بہتری اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کو ایمنسٹی اسکیم لانے کی تجویزدی گئ ہے۔وفاقی حکومت کے ترجمان برائے مالی مسائل ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ تعمیرات کے شعبے میں کمی کا تاثر غلط ہے‘رواں برس سیمنٹ کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق،وزیر اعظم عمران خان کو بتایا گیا ہے کہ نجی کاروبار تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہے ، جس سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیل رہی ہےاور ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔وزیر اعظم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کریں تاکہ حکومتی اصلاحات کے تحت ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کو اپنے آپ کو اور کاروبار کومنظم کرنے کا موقع مل سکے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو خبردار کیا گیا ہے کہ مارکیٹ تقریباً بند ہوچکی ہے اور اگر بزنس کمیونٹی کا اعتماد بحال نہیں کیا گیا تو آئندہ چھ ماہ

میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا خدشہ ہے۔ذرائع کاکہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کے باعث پی ٹی آئی حکومت کو ایسی صورتحال پیدا نہیں کرنی چاہیئے ، جس کی وجہ سے سیاست کے باعث ملک بھر میں کاروبار اور تجارت متاثر ہونا شروع ہوجائے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو موجودہ صورتحال پر بھی تشویش ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کاروبار دوست ماحول بنانے پر اصرار کررہے ہیں، جو کہ روزگار اور ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ماہر معاشیات جو کہ وزیر اعظم کو بھی مالی امور سے متعلق تجاویز دیتے ہیں ، انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے ی شرط پر دی نیوز کو بتایا ہے کہ عمران خان ذاتی طور پر ایک ایمنسٹی اسکیم لانا چاہتے ہیں جو کہ آمدنی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے کاروبار اور ملازمت کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے اور معیشت میں بہتری کا باعث ہو۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ہنڈی ، حوالہ ، منی لانڈرنگ، جعلی اکائونٹس اور کرپشن کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات ہمارے نظام کی اہم اصلاحات ہیں لیکن اس سے نجی کاروبار بری طرح متاثر ہورہا ہےاور بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیل رہی ہے۔ذرائع نے تجویز دی کہ نظام میں ان اصلاحات پر سمجھوتہ کیے بغیر حکومت کو چاہیئے کہ وہ کاروبار کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کو ایمنسٹی دے کر توازن قائم کرنے کا موقع فراہم کرے۔مختلف پیشوں سے منسلک بڑی تعداد میں لوگ ملازمت کھو رہے ہیں ، یہاں تک کے حکومت کی اولین ترجیح ہائوسنگ کے کاروبار میں تعمیرات سے رئیل اسٹیٹ تک اور نجی ڈیولپرز ، پی ٹی آئی کی چار ماہ کی حکومت کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔اسٹار مارکیٹنگ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تصدق حسین سے جب دی نیوز نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ رئیل اسٹیٹ، ہائوسنگ، نجی سوسائٹیوں، ڈیولپرز، بلڈرز اور تعمیراتی کاروبار کی موجودہ حالت بہت بری ہے ، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ حالیہ مہینوں میں بڑی تعداد میں بے روزگار ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہائوسنگ سوسائٹیوں اور بلڈرز نے بڑے پیمانے پر کاروبار میں کمی لانا شروع کردیا ہے کیوں کہ متعدد وجوہات کے باعث ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان وجوہات میں حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل ، سیاسی صورتحال، نیب اور ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کیا جانا، بیوروکریسی کی جانب سے فائلوں پر دستخط کرنے اور قانونی فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ،روپے کی قدر میں کمی اورتعمیرات کے شعبے میں بڑھتے اخراجات شامل ہیں۔تصدق حسین کا کہنا تھا کہ صورتحال اتنی سنگین ہے کہ اسٹار مارکیٹنگ کے لیے اپنے اسٹاف کو تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا ہے۔پاکستان ایسوسی ایشن برائے آٹو موٹو پارٹس اینڈ ایکسرسریزمینوفیکچررز نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے جو کہ پیر کے روز شائع ہوا کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران آٹو موٹو صنعت پہلے ہی 1200ملازمتیں کھوچکا ہے۔اس نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو اس صنعت میں جلد ہی 50000ملازمتیں جلد ہی ختم ہوجائیں گی۔دیگر وجوہات کے علاوہ ایسوسی ایشن کے اشتہار میں غیر یقینی مالیاتی پالیسیاں ، شرح سود میں اضافہ ، کاروبار کی لاگت، خام مال پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی کا اطلاق ، نان فائلرز پر نئی گاڑیوں کے خریدنے پر پابندی کے باعث صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔حالاں کہ پی ٹی آئی حکومت خوش قسمت ہے کہ وہ چین ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک سے معقول مالی معاونت حاسل کرچکی ہے، لیکن اس کے باوجود کاروباری ماحول میں بہتری نہیں آئے ہے بلکہ وہ تنزلی کا شکار ہے۔عالمی ایکویٹی انڈیکس رینکنگ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 20بری کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی اسٹاک مارکیٹوں میں بالحاظ امریکی ڈالرز،29دسمبر،2017تا 28دسمبر،2018کے دوران کراچی 100انڈیکس 15ویں نمبر پر رہا۔31دسمبر کےپاکستانی بروکریج ہائوس کے ٹاپ لائن مارکیٹ الرٹ کے مطابق، جو کہ پاکستانی مارکیٹ کی کارکردگی برائے 2018پر روشنی ڈالتا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ 2018کے دوران پاکستانی ایکویٹیز 8فیصد تک گرا (امریکی ڈالرز میں مائنس 27فیصد کے ساتھدہائی کی بری ترین کارکردگی)، جو کہ دنیا کی بری کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔تجارتی قیمت 44فیصد تک کم ہوئی جو کہ چھ سال کی کم ترین 65ملین ڈالرز فی یوم کی سطح پر آیا۔کراچی اسٹاک ایکسچینج 22سال بعد مسلسل دوسرے سال گراوٹ کا شکار رہا ۔اسٹاکس میں خالص غیر ملکی فروخت 530ملین ڈالرز کے ساتھ ریکارڈ پر رہی۔ایک ماہر کے مطابق، مارکیٹ کی اپنی کارکردگی کے لحاظ سے پاکستانی روپوں میں یہ 8فیصد تک گری ، تاہم عالمی تناظر میں ، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے اسے دنیا میں پانچویں بری ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی مارکیٹ بنادیا۔یہ وضاحت کی کہ کسی حد تک روپے کی قدر میں توازن اچھی بات ہے لیکن 105سے 139تک یعنی 32فیصد تباہی ہے۔جب کہ ہمیں برآمدات کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے، جب کہ برآمدی اشیا کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوئی قابلیت نہیں ہے، تو ایسے میں برآمدی اشیا میں تنوع لانا بہتر ہوگا اور روایتی اشیا جیسا کہ کپاس ، چاول وغیرہ میں مزید اشیا کا اضافہ ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ برآمد کنندگان کو ہدف کے مطابق فوائد ہوں گے ، بجائے اس کے کہ اس میں بڑی کمی واقع ہو۔دیگر دوسری صنعتوں کی طرح پاکستان کی میڈیا صنعت بھی مشکلات سے دوچار ہےکیوں کہ سرکاری اور نجی سیکٹر سے اشتہارات میں کمی آئی ہے۔پاکستان کی میڈیا صنعت میں ہزاروں لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور متعدد میڈیا ادارے جن میں معروف ادارے بھی شامل ہیں اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔یہ کہا جارہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ اور ٹیلی کام سے متعلق اشتہارات میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔جب کہ حکومت نے نہ صرف اشتہارات میں کمی کی ہے بلکہ اشتہارات کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر کمی کی گئی ہے۔دی نیوز نے جب مالی مسائل سے متعلق وفاقی حکومت کے ترجمان ڈاکٹرفرخ سلیم سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ تعمیرات کی صنعت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رواں برس سیمنٹ کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے ، جس سے تعمیراتی شعبے میں کمی آنے کا تاثر زائل ہوجاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت جو کہ سب سے زیادہ یعنی 5لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، حکومت نے اسے بحال کیا ہے۔پچھلی حکومتوں کے دور میں تقریباً100فیکٹریاں بند ہوگئیں تھیں وہ آئندہ تین سے چھ ماہ میں دوبارہ کھل جائیں گی۔ٹیکسٹائل صنعتوں کے نمائندگان ایل این جی کی 6اعشاریہ5ڈالرز فی یونٹ کی سبسڈی والی قیمت پر خوش ہیں اور انہوں نے اپنی فیکٹریاں دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آٹو موٹو صنعت کو عالمی سطح پر گراوٹ کا سامنا ہے، جب کہ پاکستان میں کاروں کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں رواں برس کاروں کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں