93

زحل کے رازوں سے پردہ اُٹھتا جارہا ہے

زحل ہمارے نظامِ شمسی کا چھٹا سیارہ ہے جو مشتری کے بعد باقی آٹھ سیاروں میں سائز میں دوسرے نمبر پر ہے۔ زحل کے گرد رنگز یا حلقوں کا ایک مکمل سسٹم ہے، جس کے باعث اسے دیگر سیاروں میں انفرادیت حاصل ہے۔ اس وسیع رنگ سسٹم کو 1610 میں مشہور سائنسدان گلیلیو گلیلی نے دریافت کیا تھا ۔1659 سے 1666کے دوران کرسچیئن ہائیجنز نے زحل کے رنگ سسٹم پر مزید تحقیق کرتے ہوئے ان کی اصل نیچر دریافت کرنے کے علاوہ اس کا سب سے بڑا سٹیلائٹ یا سیارچہ ‘ ٹائٹن ‘بھی دریافت کیا ۔ اس کی تحقیق کے مطابق زحل کے حلقوں میں دو زیادہ چوڑے حلقے تھے جنہیں ہائیجنز نے ‘اے ‘ اور ‘ بی حلقوں کے نام دیئے ،جب کہ دو نسبتا ًپتلے دکھائی دینے والے حلقوں کو بالترتیب ‘سی اور ‘ڈی کے ناموں سے منسوب کیا گیا ۔

چوں کہ زحل کی گردش کرنے کی رفتار انتہائی تیز ہے اس وجہ سے اس کی شکل ناریل کی طرح کروی ہے۔اور یہ نیم رواں حالت میں ہے یعنی نہ تو ٹھوس اور نہ ہی مائع ۔بلکہ ان دونوں کا مجموعہ ، جیسے ایگر جیلی ،جو ربڑکی طرح کا نرم اور ٹھوس ہوتا ہے ،مگر اس سے مائع نفوذ کر سکتا ہے۔ زحل کی آ ب و ہوا میں ہائیڈروجن کی بہتات ہے اور اس کی چٹانی زمینی تہہ (کور) کے اوپر دھاتی ہائیڈروجن کی ایک تہہ ہے ،جس کے نیچے ’’سپر کریٹیکل ہائیڈروجن مالیکیولز‘‘ کی تہہ موجود ہے ۔کرسچیئن ہائیجنز کی دریافت کے چند سالوں بعد 1671ءمیں ڈومینیکو کیسینی نے زحل کے حلقوں اے اور بی کے درمیان خلا دریافت کیا ،جسے انہیں کے نام پر’’ ‘کیسینی ڈویژن‘‘ ‘کا نام دیا گیا۔1789 ءمیں ولیم ہرشل نے ان حلقوں کی موٹائی کو ناپتے ہوئے اس کے دو چاند دریافت کیئے جو ‘ای رنگ کے اندرتھے۔ ان چاندوں کو میماس اور انسلیدس کے نام دیئے گئے۔ زحل کا یہ ای رنگ باہر کی جانب واقع دوسرا بڑا حلقہ ہے ،جس کے اندر کل پانچ چاند ہیں ۔یہ تمام کروی شکل کے چاند ہیں جن کی کثافت کم ہے اور ان کی زیادہ تر سطح پانی اور برف پر مشتمل ہے، جس کے ساتھ ایک چھوٹی سلیکا کی اندرونی تہہ یا کور بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں