41

پاکستان فٹبال پر پابندی کے خطرات بڑھ رہے ہیں

پاکستانی فٹ بال اس وقت مشکل صورتحال کا شکار ہے۔ اگرچہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے انتخابات ہوچکے ہیں اور نئے عہدیداروں نے اپنا چارج بھی سنبھال لیا ہے لیکن فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی جانب سے گزشتہ انتخابات کے حوالے سے باضابطہ کوئی حکم نامہ اب تک موصول نہیں ہوا ہے البتہ ایشین فٹ بال کنفڈریشن نے فیصل صالح حیات کو ہی پاکستان فٹ بال کا صدر تسلیم کرنے کا عندیہ دیدیا ہے اس کا کہنا ہے چونکہ فیفا نے 2020ء تک پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے نئےانتخابات کرانے تک پی ایف ایف کی صدارت کی ذمہ داری فیصل صالح حیات کو سونپی ہوئی ہے اس لئے وہ نئے انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنی جامع رپورٹ فیفا کو بھجوا دی ہے جس پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن پر ایک بار پھر عالمی فٹ بال کے دروازے بند ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اور صورتحال مزید خراب ہوگی۔ سندھ فٹ بال ایسو سی ایشن کے ضلع جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے یونٹ کے ہنگامی اجلاس میں فٹ بال کی موجودہ صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا واضح عندیہ دیا ہے کہ گزشتہ تین سال سے فیفا کے آئین کی خلاف ورزی اور حکومتی مداخلت کے سبب پاکستانی فٹ بال انٹرنیشنل فٹ بال سے دور ہورہی تھی اور ایک بار پھر ہماری فٹ بال پر پابندی لگنے جاری ہے، دوبارہ فیفا مارچ 2019ء کی کانگریس میٹنگ میں پاکستان پر عالمی فٹ بال کے دروازے بند کرکے مکمل پابندی عائد کرسکتی ہے اگر پابندی عائدہوگئی تو پاکستانی کھلاڑی اور آفیشلز عالمی مقابلوں میں سرکت سے محروم ہوجائیں گے ، اجلاس میں شامل عہدیداروں نذر محمد بروہی، ضلعی صدراللہ نورخارانی، جمعہ خان زہری، سینئرنائب صدر اور ممبر حاجی محمد اصغر بروہی، حاجی لال محمد بروہی، حاجی فیض محمد ابڑو، اصغر علی سیمجو، غلام محمدبروہی، نزاکت علی خارانی، اشفاق احمد خالانی، گل محمدخارانی، محمدایوب بروہی، ارشاداحمد بروہی یحییٰ، فیض محمدابڑو، عبدالغنی وائس پریزیڈنٹ ریفری ایسو سی ایشنن، رفیق احمدبروہی، محمد مراجھکرانی، سراج احمد کٹو، مختار احمد دالو، سابق انٹرنیشنل کھلاڑی سید ذوالفقار علی شاہ اور سہراب کھوسو نے سید خادم علی شاہ پر اعتماد کا اظہارکیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں