5

سمندر میں پلاسٹک کچھوؤں کا دشمن

سمندر میں پلاسٹک کی آلودگی کے نتیجے میں کچھوئوں کے 40فی صد بچے ہلاک ہو جاتے ہیں، یہ امر زیادہ باعث تشویش ہے کہ زہریلا پلاسٹک نگل جانے کی وجہ سے بالغ کچھوئوں کے مقابلے میں ان کے بچوں کی اموات چار گنا زیادہ ہوتی ہیں اور یہ اپنی خوراک ساحلوں کے نزدیک تلاش کرتے ہیں جہاں پلاسٹک کی آلودگی زیادہ ہوتی ہے۔ساحلی علاقوں میں پلاسٹک کی اشیا سے پھیلنے والی آلودگی کی شرح بھی زیادہ ہے جب کہ پلاسٹک کی آلودگی ان کے نظام ہضم کو ناکارہ کرنے اور بعد ازاں موت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ماہرین آبی حیات کی جانب سے تقریباً1000مردہ کچھوئوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا، اس کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے نصف نومولود تھے جب کہ پلاسٹک کھا کر ہلاک ہونے والوں میں سے ایک چوتھائی نوعمر اور سات میں سے صرف ایک بالغ کچھوا تھا۔اسٹڈی میں کچھوئوں کی جن اقسام پر تحقیق کی گئی تھی ان میں گائودی ، سبز کچھوا ، سنگ پشت ،باز منقار ،کیمپس رڈلے ، اولائیو رڈلے اور آسٹریلین فلیٹ بیک شامل تھے۔ مطالعے کے دوران سائنسدانوں نے مشاہدہ کیاکہ کچھوئوں کے معدے میں مختلف مقدار پائی گئی۔ بعض میں پلاسٹک کا ایک اور دیگر میں سے329 ٹکڑے نکالے گئے۔ معدے سے نکالے گئے پلاسٹک کے ٹکڑے کا زیادہ سے زیادہ وزن 10.41 گرام 0.4) اونس) تھا۔

سائنس دانوں کے مطابق جانور کے معدے میں پلاسٹک کے 14 ٹکڑے پہنچنے کے بعد موت کا امکان 50 فی صدبڑھ جاتا ہے۔ سمندر میں پلاسٹک کی آلودگی میں پلاسٹک کی تاروں سے بنے مچھلیاں پکڑنے کے جال، نائیلون کے رسے، ڈھکن، تھیلے، بوتلیں، سٹرا اور پلاسٹک کے ٹکڑے شامل ہیں۔ ا پنی نوعیت کی اس پہلی تحقیق کی قیادت ہوبارٹ، تسمانیہ میں کامن ویلتھ سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن کے سائنس دانوں نے کی۔ اس مطالعے کے تحت دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی سے سمندری کچھوئوں کی آبادی میں کمی کے خدشات پر روشنی پڑی ہے ،جس کی مختلف نسلیں پہلے ہی ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ کامن ویلتھ سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن کی ڈاکٹر ڈینس ہارڈیسٹی کے مطابق سمندری ماحولیات میں پلاسٹک کے ملبے کی مستقل موجودگی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق صرف 2010میں زمینی ذرائع سے دنیا کے سمندروں میں 4.8ملین سے 12.7ملین ٹن پلاسٹک کا ملبہ داخل ہوا ،جس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جب کہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی مستقبل میں زیادہ تیزی سے بڑھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں