85

کہیں ترقی و طاقت کہیں غُربت و لاچاری…..

دنیا کی دس بڑی طاقتیں اور معیشتوں کے حوالے سے عالمی جرائد اور رسائل کی رپورٹس نومبر 2018 ء کے مطابق یہ ممالک زمین کی ترقی کی بلندیوں کے بعد تسخیر کائنات کی جستجو میں مگن ہیں ۔علمی ،سائنسی تحقیق،آزاد معیشت اور جمہوریت کی بدولت ترقی کی بلندیوں پر پہنچے ہیں، دوسری طرف دنیا کے ان غریب ترین ممالک کے بارے میں بھی رپورٹس شائع ہوئی ہیں جو یورپی نوآبادیات ،جہالت ،نسلی ،لسانی اور قبائلی تفریق کی بدولت ،غربت اورپسماندگی کا شکار ہیں ۔

دنیا کی معیشت ہر بار اتار چڑھائو اور مندی بلندی کی طرف رواں دواں رہتی ہے۔سال 2018 میں عالمی بینک، آئی ایم ایف اور آئوٹ لک ڈیٹا بیس کی مدد سے درج ذیل فہرست برائے 2018 کے مطابق دنیا کی دس بڑی معیشتوں اور طاقتوں میں امریکاسرِ فہرست ہے، جب کہ چین دوسرے، جاپان تیسرے، جرمنی چوتھے، برطانیہ پانچویں، بھارت چھٹے، فرانس ساتویں، اٹلی آٹھویں، برازیل نویں اور کینیڈا دسویں نمبر پر ہے۔ ذیل میں 2018ء کی دس بڑی معیشتوں اور طاقتوں کے ساتھ غریب اور پسماندہ ممالک کا بھی تذکرہ نذرِقارئین ہے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکا

ریاست ہائے متحدہ امریکا دنیا کی سپرپاور بڑی معیشت اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کی سالانہ آمدنی بیس ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے ،جب کہ فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار ڈالر سے زائد اور آبادی بتیس کروڑ سے زائد ہے، جن میں تمام دنیا کے تارکین وطن بھی شامل ہیں جو گزری صدی سے تاحال روزگار، تعلیم اور کاروبار کے لیے امریکا آتے جاتے یا وہاں سکونت اختیار کرلیتے ہیں۔ امریکا کے زرعی، صنعتی اور تحقیقی شعبے دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ امریکا سب سے بڑی خوبی یہ ہے ،کہ وہاں مستحکم جمہوری اداروں روایات کے علاوہ انفرا اسٹرکچر اور وسیع ترین جدید ٹرانسپورٹ کا نظام موجود ہے۔ امریکا کی باون ریاستوں میں لوکل گورنمنٹ کا نظام جمہوری، مستحکم اور فعال ہے۔ اس کی مستحکم معیشت اور طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاںتعلیم کا اوسط ننانوے فی صد کے لگ بھگ ہے۔ دنیا کی جدید جامعات، اعلیٰ تعلیمی ادارے اور تحقیقی مراکز سب سے زیادہ ہیں۔ تعلیم اور صحت عامہ پر بڑی رقومات خرچ کی جاتی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے اعلیٰ دماغ، استاد اور سائنس داں امریکا میں کام کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں، کیوں کہ اس ملک میں ذہانت، اہلیت اور محنت کی قدر کی جاتی ہے۔تیرہ لاکھ لڑاکا اور آٹھ لاکھ تربیت یافتہ رضاکاروں سمیت جدید ترین وسیع بحری بیڑہ اور طیارے رکھتا ہے اس کے علاوہ جدید حساس ہتھیاروں کی تیاری بھی کررہا ہے۔

عوامی جمہوریہ چین

چین آبادی کے حوالے سے دنیا کاسب سے بڑا ملک ہے ، ارب چالیس کروڑ کے لگ بھگ آبادی ہے۔ مجموعی آمدنی بیس ٹریلین سے زیادہ ، جب کہ فی کس آمدنی 18ہزار ڈالر ہے۔ چین قوم پرستی اور کنفیوشن کے قدیم روایات کا بڑا پاسدار ہے۔ چین سوشلسٹ پارٹی دنیا کی سب سے بڑی اور منظم جماعت ہے جس کی حکمرانی ہے۔ چین کے عوام انتہائی جفاکش اور محنتی ہوتے ہیں۔ چین نے ستر کی دہائی میں نئی کروٹ لی اور رفتہ رفتہ ترقی کی انتہائی بلندیوں کو چھونے لگا۔ چین دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں اپنی مصنوعات فروخت کرتا ہے۔ دنیا کی زیادہ تر منڈیاں چینی مصنوعات سے بھری نظر آتی ہیں۔ اس کا نیا وژن ایک روڈ ایک روٹ کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور تاحال ساٹھ سے زائد ممالک اس میں شریک ہوچکے ہیں۔ چین نے پاکستانی بندرگاہ گوادر میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور سی پیک پروگرام جس میں چین پچاس ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرراہ ہے اس خطے میں ترقی کی اہم علامت ہے جس کے دور تک مثبت اثرات ظاہر ہونگے۔ چین کی افواج دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے جس میں اکیس لاکھ ریگولر فوجی اور دس لاکھ سے زائد تربیت یافتہ رضاکار ہیں۔ بحری اور فضائی قوت میں بھی چین بہت زیادہ طاقتور ہے تمام افواج اور عسکری شعبے جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔ چین نے تعلیم، صحت عامہ، انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور تحقیق کے شعبوں میں بھی نمایاں ترقی کی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے جائزوں کے مطابق چین مستقبل قریب میں دنیا کی سپرپاور اور سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

جاپان

بحرالکاہل کے گہرے پانیوں میں ابھرتے سورج کی سرزمین جاپان دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے جس کی مجموعی آمدنی 5.071 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ فی کس آمدنی پینتالیس ہزار ڈالر سے زائد ہے۔ جاپانی قدیم تہذیب کا گہوارہ رہا ہے۔جاپان نے بیسویں صدی کے اوائل سے جدید ترقی کی ابتداء کی تھی مگر دو عالمی جنگوں میں جاپان کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور بیسوی صدی کے چوتھے عشرے میں امریکہ کے دو ایٹمی حملوں کا نشانہ بھی بننا پڑا۔ مگر اتنے بڑے نقصان کے باوجود جاپانی قوم نے محنت، لگن اور اہلیت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ترقی اور کامرانی کی بلندیوں کو چھونے کا ریکارڈ قائم کیا۔ جاپانی جامعات اور سائنسی تحقیقی اداروں میں آٹھ لاکھ سے زائد اساتذہ، ماہرین اور محققین کام کررہے ہیں۔ دنیا کی جامعات کی فہرست میں جاپان کا شمار صف اول میں ہوتا ہے۔ جاپان نے خلائی تحقیق اور روبوٹس ٹیکنالوجی میں بھی بہت ترقی کی ہے۔ جاپان کی آبادی بارہ کروڑ ساٹھ لاکھ/ رقبہ پونے چار لاکھ مربع کلومیٹر/ فی کس آمدنی 40ہزار ڈالر ہے۔ جاپان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کواوّلیت دیتےہیں ۔ ملک میں قانون اور انصاف کی بالادستی ہے۔ جاپان اب دفاعی طور پر بھی بہت مستحکم ہوچکا ہے ہر چند کہ امریکی فوجی اڈے ہیں مگر جاپان کی مسلح افواج جدید ترین ہتھیاروں اور تربیت سے لیس ہے۔ جاپان کی ساٹھ سے زائد ممالک سے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں پاکستان بھی ان میں سے ایک ہے۔

جرمنی

وفاقی جمہوریہ جرمنی کادنیا کی معیشت کی صف میں چوتھے نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ جرمنی کی سالانہ آمدنی سوا چار ٹریلین ڈالر ہے،فی کس آمدنی تریپن ہزار ڈالر،جب کہ آبادی آٹھ کروڑ بتیس لاکھ کے قریب اور رقبہ ساڑھ تین لاکھ مربع کلو میٹر ہے۔ وفاقی جمہوریہ جرمنی یورپی یونین کے اہم ترین ممالک میں نمایاں ہے۔ اس کی معیشت کو سوشل مارکیٹ اکنامی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ملک میں انفرااسٹرکچر مضبوط اور وسیع ہے۔ صنعتی شعبہ بہت وسیع اور جدید ہے۔ جرمنی کی شیئر مارکیٹ دنیا کے حصص بازار میں بہت اہم تصور کی جاتی ہے جو عالمی معیشت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ حکومت نے صنعتی ترقی کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی ہے۔ ملک میں جمہوریت اظہار رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کی روایات اور چلن مستحکم اور عام ہے۔ جرمنی نے تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں کو زیادہ اولیت دی جس کے نتیجے میں جرمن قوم دنیا کی ذہین، باصلاحیت، ترقی پسند اور اعتدال پسند اقوام میں نمایاں ہے۔ عوام کا معیار زندگی جدید اور بلند ہے، تعلیم نناوے فیصد ہے۔ ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہے۔

برطانیہ

برطانیہ براعظم یورپ کا اہم ترین ملک اور بڑی طاقت ہے جبکہ عالمی معیشت میں اس کو پانچویں قوت کی معیشت حاصل ہے۔ برطانیہ کی مجموعی سالانہ آمدنی پونے تین ٹریلین ڈالر سے ہے، جب کہ فی سالانہ آمدنی بیالیس ہزار ڈالر ہے۔ آبادی چھ کروڑ ستر لاکھ سے زائد ہے اور رقبہ دو لاکھ بیالیس ہزار مربع کلو میٹر کے قریب ہے۔ جمہوریت کی اوّلین جدوجہد یہیں سے شروع ہوئی اس حوالے سے برطانیہ کو جمہوریت کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ برطانیہ دنیا کی بہترین اور شفاف جمہوری اقدار کا گہوارہ ہے۔ بیسوی صدی کے نصف تک برطانیہ ہی دنیا کی سپرپاور کہلاتا تھا مگر دو عالمی جنگوں کے بعد یہ حیثیت امریکا کو حاصل ہوگئی۔ ان تمام تلخ حقائق اور متنازعہ معاملات کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ انسانی معاشروں کو جدید ترقی، سائنس اور جمہوری روایات سے روشناس کرایا۔یورپی یونین میں رہنے یا علیحدگی اختیار کرنے پر وہاں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ تاہم برطانیہ کو یورپی یونین میں رہنا چاہیے۔

بھارت

2018ء میں بھارت دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن کر اُبھرا ہے۔ ملک کی سالانہ آمدنی 2.70 کے لگ بھگ اور فی کس سالانہ آمدنی آٹھ ہزار سے زائد ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ ایک ارب بتیس کروڑ افراد پر مشتمل یہ ملک مختلف زبانوں، علاقوں، مذاہب اور نسلوں میں بٹا ہوا ہے۔ ملک کی آبادی میں 45فیصد درمیانہ طبقہ ہے جبکہ نچلا اوسط طبقہ اور چالیس فیصد کے لگ بھگ افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارت کو سالانہ پچھتر ارب ڈالر سے زائد رقم تارکین وطن جو امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں ان سے موصول ہوتا ہے۔ ایک سو چودہ ارب پتی خاندان صنعتی، زرعی، بیمہ کاری اور سرمایہ کاری کے شعبوں پر قابض ہیں۔ تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں پر حکومت خاطر خواہ توجہ دے رہی ہے۔ بھارت ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اپنی فوج اور اسلحہ پر 75ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے جس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ جاری ہے اور عوام کے بیشتر بنیادی مسائل حل نہیں ہورہے۔

فرانس

فرانس دنیا کی ساتویں بڑی معیشت ہے جس کی سالانہ آمدن 2.92 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ فی کس آمدنی 46ہزار ڈالر ہے۔ آبادی چھ کروڑ اسی لاکھ کے قریب اور رقبہ چھ لاکھ چالیس ہزار مربع کلو میٹر ہے۔فرانس کے پانچ سو سے زائد صنعتکار، سرمایہ کار، بینکار اور تجارتی ادارے ملک کی معیشت چلارہے ہیں۔ یہ ادارے بیرون ممالک تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکے ہیں۔ یہ دنیا میں سیاحت کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں دنیا کے گوشے گوشے سے سیاح فرانس آتے ہیں۔ فرانس تعلیم، سائنسی تحقیق اور صحت عامہ پر بڑا بجٹ خرچ کرتا ہے۔ جمہوریت مستحکم ہے ۔ فرانس یورپی یونین اور نیٹو ممالک کا اہم رکن ہے اس کی عسکری طاقت بری، بحری، فضائی افواج پر مشتمل جو جدید ترین ہتھیاروں اور اعلیٰ تربیت سے لیس ہے۔ یہ زرعی طور پر بھی خوشحال ملک ہے اور ملک کے بڑے رقبہ پر جدید طریقوں سے کاشت کاری کو فروغ دیا جارہا ہے۔ کیمیکل کی صنعت، کاروں کی صنعت، پارچ بانی اور جدید ہتھیاروں کی صنعت مستحکم ہے۔ دنیا کو ہتھیار فروخت کرنے والا پانچواں اہم ملک ہے۔

اٹلی

اٹلی تاحال دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت اور اہم عسکری طاقت شمار ہوتی ہے۔ اس کی سالانہ آمدنی 2.181 ٹریلین ڈالر اور فی کس آمدنی 40ہزار ڈالر کے قریب ہے۔ اٹلی کے صنعتی ادارے الیکٹرونکس کی مصنوعات، قیمتی چھوٹی بڑی کاریں، پرچ بانی، مواصلات کا سامان، تجارتی بحری جہازوں سے ایٹمی ایکٹر تک تیار کرتے ہیں۔ملک کی آبادی ساڑھے کروڑ اور رقبہ تین لاکھ پندرہ مربع کلو میٹر ہے۔ اٹلی خوبصورت تاریخی ملک ہے جو بحیرہ روم کے ساحلوں پر واقع ہے۔ طویل آمریت کے بعد اٹلی بھی جمہوری دور میں داخل ہوگیا۔ اٹلی کا پارلیمانی نظام متناسب نمائندگی کے طریقہ کار پر استوار ہے۔ اس میں تعلیم، صحت عامہ، سائنسی تحقیق کے ادارے مستحکم اور فعال ہیں۔ جدید انفرااسٹرکچر کے ساتھ قدیم عمارات اور کلیسائوں نے اٹلی کو سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنادیا ہے۔ یہ نیٹو ممالک کا اہم ملک ہے۔ مسلح افواج بری، بحری اور فضائی شعبوں پر استوار جو جدید ترین ہتھیارروں سے لیس ہے۔ اٹلی اپنی افواج پر بڑا بجٹ صرف کرتا ہے۔ عام لوگوں کا معیار زندگی قدرے بلند ہے۔

برازیل

برازیل ہر چند کہ مختلف معاشی اور سیاسی مسائل سے نبردآزما ہے مگر اس کے باوجود 2018 میں اس نے دنیا کی نویں بڑی معیشت کی فہرست میں جگہ بنالی ہے، جس کی سالانہ آمدنی 2ٹریلین ڈالر اور فی کس آمدنی 25ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ آبادی اکیس کروڑ اٹھارہ لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ ملک کا رقبہ پچاسی لاکھ مربع کلو میٹر سے زائد ہے۔ معدنی ذخائر ، قیمتی لکڑی، موتی اور پتھر معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا میں برازیل کافی، کوکین اور فٹبال کی بدولت اپنی ایک الگ شہرت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کیمیکل، موٹر کاروں، زرعی آلات، مشروبات، طیارہ سازی اور جدید ہتھیاروں کی تیاری اور فروخت میں بھی بہت ترقی کرچکا ہے۔ جنوبی امریکا میں سیاحوں کی بڑی تعداد برازیل ضرور آتی ہے۔ایمیزون کے گھنے جنگلوں اور وسیع وادیوں میں کہا جاتا ہے کہ کوکین اور ہیروئن کے بڑے بڑے اسمگلروں کے خفیہ اڈے قائم ہیں جہاں سے ایک اندازے کے مطابق پانچ سے دس ارب ڈالر سالانہ کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ برازیل کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی میں اضافہ اور منشیات کا استعمال ہے۔ حکومت تبدیلی اور ترقی کی جدوجہد کررہی ہے مگر مسائل زیادہ اور آبادی زیادہ ہے۔

کینیڈا

کینیڈا رقبہ کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ آبادی تین کروڑ اٹھاون لاکھ کے قریب ہے۔ کینیڈا نے روس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی دس بڑی معیشتوں کی فہرست میں دسویں نمبر پر اپنی جگہ بنالی ہے۔اس کی سالانہ آمدنی 1.798 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ فی کس سالانہ آمدنی کا اوسط پچاس ہزار ڈالر ہے۔ ملک کی سرحد صرف امریکا سے ملتی ہے۔کینیڈا میں جمہوری پارلیمانی نظام رائج ہے مگر برطانیہ کی طرح ملک کی علامتی سربراہ برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ دوئم ہے۔ دوسرے لفظوں میں کینڈا کے عوام ملکہ برطانیہ کو اپنے ملک کی سربراہ تسلیم کرتے ہیں۔ جبکہ وزیراعظم جسٹس ٹروڈو ملک کے آئینی سربراہ ہیں۔ صنعتی طور پر کینیڈا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں پندرہویں نمبر پر ہے مگر دنیا کے مہذب ترین، جمہوری، انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے اولین دس ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ کینیڈا کا معاشرہ امن پسند، اعتدال پسند، قانون کا احترام کرنے والا اور اظہار رائے کو فوقیت دیتا ہے۔ ملک میں تعلیم، صحت عامہ، فلاحی امور اور میونسپل کا نظام قابل تحسین ہے۔ کینیڈا ہر سال تعلیم اور سائنسی تحقیق پر بہت بڑی رقم خرچ کرتا۔ وزیراعظم جسٹن نے دس لاکھ تارکین وطن کو کینیڈا میں پناہ دے کر اپنی انسان دوستی کا ثبوت پیش کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں