21

پختونخواحکومت قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے کوشاں

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کو صوبے میں ضم شدہ قبائیلی اضلاع کے حوالے سے محکمہ لوکل گورنمنٹ ، محکمہ داخلہ اور کمیونیکیشن سٹریٹیجی سمیت امن وامان کی بحالی کی ذمہ داریاں دینے سے صوبے میں قائم تحریک انصاف کی صوبائی حکومت باالخصوص صوبے کے انتظامی سیکرٹریوں اور بیورو کریسی میں خوف اور ڈر کی ایک لہر دوڑ گئی ہے کہ اب وہ ان اضلاع میں امور کی انجا م دہی ترقیاتی عمل کے فروغ اور ان علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں لائے جانے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں متعلقہ صوبائی وزراء اور محکمے وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ گورنر کو بھی جواب دہ ہوں گے۔

ماضی میں انگریز دور سے قبائلی علاقہ جات وفاق کے زیر اہتمام چلے آرہے تھے قیام پاکستان کے بعد سے بھی یہی سلسلہ جاری تھا اور خیبر پختونخوا کا گورنر بلحاظ منصب وفاق کی جانب سے صدر مملکت کا نمائندہ ہونے کاباعث قبائلی علاقہ جات کے لئے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے معاملات کی اندام دہی کرتا تھا۔

گزشتہ سال عام انتخابات کے لئے حکومتوں کی تحلیل اور نگران سیٹ اپ کے قیام سے کچھ ہی دن قبل پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات ( فاٹا ) کے علاقوں سے بدنام زمانہ ایف سی آر قوانین کا خاتمہ کرتے ہوئے ان علاقوں کو وہاں کے عوام کی اکثریتی رائے اور طویل صلاح مشوروں کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر کے ان علاقوں کے لئے دس سالہ ترقی کے لئے ایک خصوصی ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کااعلان کیا گیا۔ یوں دس سالوں تک ان علاقوں میں سالانہ ایک سو ارب روپے مختلف محکموں میں متعلقہ علاقوں کی ضرورت اور ترجیح کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے۔

قبائلی علاقوں کے حوالے سے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی آئینی ترمیم کے بعد جب یہ علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کاحصہ بن گئے ہیں تو لامحالہ ان علاقوں کا چیف ایگزیکٹو صوبے کاچیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعلیٰ بن گئے اور گورنر خیبر پختونخوا کی اس حوالے سے اختیارات ختم ہوگئے تاہم ملکی تاریخ میں پہلی بار صوبے کا گورنر اور صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک ہی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور پہلی بار یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور وفاق میں ایک ہی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے ورنہ تو صوبے اور وفاق میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہونے کے باعث ماضی میں صوبہ وفاق کے لئے اپوزیشن کی حیثیت رکھتا اور وفاق کا نمائندہ گورنر صوبائی حکومت کا اپوزیشن رہتا اور یوں ایک سرد جنگ جبکہ کبھی کبھار گرم جنگ کی صورت انہیں اور اکثر و بیشتر اوقات صوبہ وفاق کی جانب سے حقوق اور فنڈز کی عدم ادائیگی کا شکاررہتا اب جبکہ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان اور وزیر اعلیٰ محمود خان نہ صرف ایک ہی سیاسی جماعت پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں صوبہ و ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی و خوشحالی کے لئے پر عزم ہیں توقع کی جارہی ہے کہ اختیارات کی جنگ اس عمل میں آڑے نہیں آئے گی او ردونوں باہمی مشاورت سے صوبے اور قبائلی اضلاع کے عوام کی فلاح و ترقی اور خوشحالی کے لئے آگے بڑھیں گے یقیناً وزیراعظم عمران خان نے بھی سوچ سمجھ کر گورنر کو ضم شدہ قبائلی علاقوں کی ترقی و خوشحالی اوروہاں کے عوام کو ترقی کے قومی دھارے میں لانے کے لئے گورنر خیبر پختونخوا کو خصوصی اختیارات دیئے ہیں کہ ان علاقوں کو حقیقی معنوں میں قومی دھارے میں لانے کے لئے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اور گورنر شاہ فرمان کے لئے ایسا کرنا نسبتاً زیادہ آسان ہوگا جبکہ وزیر اعلیٰ محمود خان کے لئے 7 قبائلی اضلاع کے علاوہ باقی ماندہ پچیس اضلاع پر توجہ آسان رہے گی شنید ہے کہ بیورو کریسی نے وزیراعظم کی جانب سے گورنر خیبر پختونخوا کو نفویض کردہ اختیارات کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بدظن کرنے کی بڑی کوشش کی ہے اور اس حوالے سے انہیں اور صوبائی وزراء کو احتجاج کرنے پر بھی ابھارنے کی کوشش کی ہے تاہم گورنر شاہ فرمان اور وزیر اعلیٰ محمود خان کے مابین ہونے والی ایک خصوصی ملاقات میں خدشات کو باہمی صلاح مشورے سے دور کر کے بیورو کریسی کی سازش کو ناکام بنا یا گیا ہے۔

یقیناً یہ ملاقات اور بالمشافہ بات چیت صوبے اور قبائلی عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے مربوط کوششوں اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے میں صمدومعاون رہے گا اور وفاق کی جانب سے نہ صرف قبائلی الاع کے لئے این ایف سی ایوارڈ کا تین فی صد اور دس سالہ خصوصی ترقیاتی پیکج کے سالانہ ایک سو ارب روپے کے فنڈز ملا کر یں گے بلکہ صوبہ کو اس کا آئینی حق باالخصوص بجلی کے خالص منافع کاحصہ اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت ملا کرے گا اور وفاق کی جانب پی ایس ڈی پی کے منصوبوں سمیت دیگر میگا منصوبوں کے لئے فنڈز کااجراء ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت گورنر کے اشتراک سے وفاق سے صوبے اور قبائلی اضلاع کے لئے تمام تر آئینی حقوق کے حصول کے لئے مربوط کوششوں پر توجہ دیں اور صوبے کے قدرتی وسائل سے استفادے سمیت سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے میں پورے حصے کے حصول کے لئے توجہ مرکوز کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں